خطبات محمود (جلد 11) — Page 408
خطبات محمود ۴۰۸ سال ۶۱۹۲۸ کہ جو ساری چیز نہ حاصل کر سکے اسے تھوڑی نہیں چھوڑ دینی چاہئے۔کیا ایک شخص جو جنگل میں بھوکا پڑا ہو اسے ایک روٹی ملے تو اسے اس لئے چھوڑ دینی چاہے کہ اس سے اس کی ساری بھوک دور نہ ہو گی۔پس جتنا کوئی پڑھ سکتا ہو پڑھ لے اور اگر خود نہ پڑھ سکتا ہو تو محلہ میں جو قرآن جانتا ہو اس سے پڑھ لینا چاہئے۔جب ایک مخص بار بار قرآن پڑھے گا اور اس پر غور کرے گا تو اس میں قرآن کریم کے سمجھنے کا ملکہ پیدا ہو جائے گا۔پس مسلمانوں کی ترقی کا راز قرآن کریم کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں ہے۔جب تک مسلمان اس کے سمجھنے کی کوشش نہ کریں گے کامیاب نہیں ہوں گے۔کہا جاتا ہے کہ دوسری قومیں جو قرآن کو نہیں مانتیں وہ ترقی کر رہی ہیں پھر مسلمان کیوں ترقی نہیں کر سکتے۔بے شک عیسائی اور ہندو اور دوسری قومیں ترقی کر سکتی ہیں لیکن مسلمان قرآن کو چھوڑ کر ہر گز نہیں کر سکتے۔اگر کوئی اس بات پر ذرا بھی غور کرے تو اسے اس کی وجہ معلوم ہو سکتی ہے۔اگر یہ صحیح ہے کہ قرآن کریم خدا تعالٰی کی کتاب ہے اور اگر یہ صحیح ہے کہ ہمیشہ دنیا کو ہدایت دینے کے لئے قائم رہے گی تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اگر قرآن کو خدا کی کتاب ماننے والے بھی اس کو چھوڑ کر ترقی کر سکیں تو پھر کوئی قرآن کو نہ مانے گا۔پس قرآن کی طرف مسلمانوں کو متوجہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی ترقی کا انحصار قرآن کریم پر ہو۔اگر عیسائی دنیا کے لئے کوشش کرتے ہیں تو انہیں ترقی حاصل ہو سکتی ہے۔کیونکہ خدا تعالی کا قانون ہے جو کوئی کوشش کرتا ہے اسے ہم دیتے ہیں۔مگر مسلمان اگر قرآن کو چھوڑ کر کوشش کریں تو ان پر ہلاکت اور تباہی نازل کی جاتی ہے تاکہ ان کو محسوس ہو کہ یہ قرآن کو چھوڑنے کی سزا ہے اور انہیں توجہ پیدا ہو کہ قرآن کو چھوڑ کر کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔دیکھو انسان اپنے بچے سے اور رنگ میں سلوک کرتا ہے اور غیر کے بچے سے اور طریق سے۔اگر کوئی اپنا آدمی بد تہذیبی سے کلام کرے گا تو ہم فورا اسے ڈانٹیں گے۔لیکن اگر کوئی عیسائی یا ہندو یہ کہے گا کہ میں قرآن کو خدا کا کلام نہیں مانتا تو اس پر ناراض نہیں ہوں گے کیونکہ اس کا عقیدہ یہی ہے۔پس مسلمان جب تک قرآن پر عمل نہ کریں ترقی نہیں کر سکتے۔آج اگر مسلمان کہلانے والے قرآن کا انکار کر دیں تو وہ دنیاوی طور پر کوشش کرنے سے اس طرح ترقی کر سکتے ہیں جس طرح غیر مسلم اقوام کر رہی ہیں۔لیکن جب تک وہ قرآن سے وابستہ ہیں اور قرآن کو خدا کا کلام مانے کے دعویدار ہیں اسے چھوڑ کر ترقی نہیں کر سکتے، اگر مسلمان قرآن کو چھوڑ دیں گے تو خدا تعالٰی کوئی اور قوم کھڑی کر دے گا