خطبات محمود (جلد 11) — Page 403
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء نہیں کہ کہہ دیا جائے قرآن خدا کا کلام ہے اس لئے جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے مان لینا چاہئے بلکہ اس کیلئے عقلی دلائل کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ نے اس آیت میں آیا يُّهَا النَّاسُ کہہ کر بتایا ہے کہ اس کے مخاطب عیسائی، یہودی، ہندو سب لوگ ہیں جو قرآن کی وحی کو تسلیم نہیں کرتے ان لوگوں کو مخاطب کر کے جب دلیل کا ذکر کیا گیا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس کا مطلب عقلی دلیل ہے۔پس فرمایا اے لوگو خدا کی طرف سے تمہارے پاس دلیل آئی ہے یعنی قرآن جو باتیں پیش کرتا ہے ان کی صداقت میں عقلی دلائل بھی دیتا ہے۔یہ کسی اور کتاب کا نہ دعوی ہے اور نہ وہ اپنے اندر عقلی دلائل رکھتی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے مسلمان ہی دلائل سے غافل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ چونکہ قرآن میں یہ بات لکھی ہے اس لئے اس کی دلیل کی ضرورت نہیں ہم ایسا ہی مانتے ہیں۔اس کے معنی سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ان کے ماں باپ چونکہ اسلام میں داخل تھے اس لئے وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں ورنہ خود انہیں پتہ نہیں کہ اسلام کیا ہے۔لیکن اگر ایک مسلمان قرآن پر اس لئے ایمان رکھتا ہے کہ اس کے ماں باپ کا اس پر ایمان تھا اور اس طرح وہ اپنے آپ کو اس بات کا مستحق سمجھتا ہے کہ خدا کا قرب حاصل کرے تو ایک ہندو بھی تو اسی طرح ہندو مذہب کا قائل ہوتا ہے۔اس کے ماں باپ چونکہ ہندو تھے اس لئے وہ بھی ہندو کہلاتا ہے پھر وہ کیوں نجات کا مستحق نہیں۔اسی طرح عیسائی بھی جن عقائد کا پابند ہے وہ اسے ماں باپ سے ورثہ میں حاصل ہوئے وہ بھی نجات کا مستحق ہونا چاہئے۔کیا وجہ ہے کہ مسلمان چونکہ قرآن کو اس لئے مانتے ہیں کہ ان کے ماں باپ قرآن کو مانتے تھے وہ تو جنت میں چلے جائیں لیکن ہندو جو انہی کی طرح اپنے ماں باپ کے عقائد کے پابند ہوں وہ نہ جائیں۔اگر مسلمان صرف اس لئے نجات پاسکتے ہیں کہ وہ قرآن کو اس وجہ سے مانتے ہیں کہ ان کے ماں باپ مانتے تھے تو ہندو بھی اس بات کے مستحق ہوں گے کہ نجات پائیں کیونکہ ان کے ماں باپ کا جو مذہب تھا وہی ان کا ہے۔جس طرح ایسے مسلمان کا مذہب ورثہ کا مذہب ہے اسی طرح ہندو کا بھی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو فطرت پر پیدا ہوتا ہے آگے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔آج کل کے مسلمانوں کو مد نظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ انہیں بھی ماں باپ مسلمان بناتے ہیں ورنہ حقیقت میں انہیں کوئی پتہ نہیں ہو تا کہ اسلام کیا ہے۔اصلی مسلمان بننے کیلئے ضروری ہے کہ جو کچھ وہ مانتا ہو دلیل کے ساتھ مانے۔یعنی اس کی صداقت کے دلائل سے آگاہ ہو۔چنانچہ خدا تعالٰی فرماتا ہے۔اَفَمَنْ