خطبات محمود (جلد 11) — Page 402
۴۰۲ سال ۱۹۲۸ء پوچھوں گا۔اس وجہ سے مجھے مذہب کے متعلق کوئی واقفیت نہیں ہے۔یہی حالت اور مسلمانوں کی بھی ہے وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ رسول کریم ال اسلام کے بانی تھے اور قرآن الهامی کتاب ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے اور نہ انہیں رسول کریم ﷺ کی صداقت اور قرآن کریم کے الہامی ہونے کے دلائل معلوم ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان اور خصوصاً تعلیم یافتہ مسلمان مذہب سے بے زار ہو رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں جس مذہب کی باتیں زور سے منوائی جاتی ہیں نہ کہ دلائل سے وہ جھوٹا ہی ہو گا۔اگر اس کی باتیں کچی ہوں تو ان کی صداقت کی دلیل کیوں نہ دی جائے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک تاجر جس کے پاس اچھا مال ہوتا ہے وہ اپنے مال کو نکال کر سامنے رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے اسے دیکھ کر پسند کر لو لیکن جس تاجر کے پاس خراب چیز ہو اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ خریدار بغیر دیکھے بھالے خرید لے۔وہ اس قسم کی باتوں سے خریدار کو مطمئن کرنا چاہتا ہے کہ میں جو کہتا ہوں یہ بہت عمدہ چیز ہے اس میں کوئی نقص نہیں ہے۔اس وقت اسلام کو اسی صورت میں پیش کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام کو اپنی نظر میں بھی اور دوسروں کی نظر میں بھی حقیر بنایا جائے حالانکہ صرف قرآن ہی ایسی کتاب ہے جو کہتی ہے کہ ہر بات دلیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔قرآن کے سوا نہ یہ دعوئی انجیل کرتی ہے۔نہ وید نہ کوئی اور ایسی کتاب جسے الہامی اور مذہبی کہا جاتا ہے۔صرف قرآن ہی ہے جو کہتا ہے ايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُمُ بُرْهَانَ مِنْ رَتِكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمُ نُورًا مُّبِينًا (النساء : ۱۷۵ کہ قرآن ایسی کتاب ہے جو دلائل رکھتی ہے۔یہ کہنا کہ جب قرآن خدا کا کلام ہے تو پھر جو کچھ وہ کہے اسے مان لینا چاہئے اس کیلئے دلائل کی کیا ضرورت ہے یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ دنیا میں ایسے لوگ بھی تو ہیں کہ جو قرآن کو خد کا کلام نہیں مانتے ان کو منوانے کیلئے دلائل کی ضرورت ہے اور دلائل بھی عقلی۔اس آیت میں عقلی دلائل کا ہی ذکر ہے۔اور اسی آیت سے یہ ثابت ہے کہ دلیل کے معنی عقلی دلیل کے ہیں نہ یہ کہ چونکہ خدا تعالی کہتا ہے اس لئے مان لینا چاہئے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے بايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُمُ بُرهَانُ۔اے لوگو! تمہارے لئے دلیل آگئی ہے۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اے مومنو! بلکہ اے لوگو فرمایا ہے۔یعنی صرف ان لوگوں کو مخاطب نہیں کیا جو ایمان لے آئے اور جو قرآن کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں بلکہ عیسائیوں ، یہودیوں، ہندوؤں ، سکھوں، بدھوں غرض کہ دنیا کے تمام انسانوں کو مخاطب کیا ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے؟ قرآن کی وحی ایک مسلمان کیلئے حجت ہو سکتی ہے مگر ہندو کیلئے یا عیسائی کیلئے یا یہودی کیلئے یہ کافی -