خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 400

سال ۱۹۲۸ء ۴۰۰ ۵۳ مسلمانوں کی ترقی کا راز قرآن کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں ہے (فرموده ۶ / جولائی ۱۹۲۸ء بمقام ڈلہوزی) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حسب ذیل آیت پڑھی۔يا يُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانَ مِنْ رَتِكُمْ وَاَنْزَلْنَا إِلَيْكُمُ نُورً ا مُّبِينًا ، (نساء) (۱۷۵ اللہ تعالیٰ نے اس مختصری آیت میں جو میں نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد پڑھی ہے ایک ایسا قانون اور ایسا گر مسلمانوں کو بتایا ہے جس کے ذریعہ سے وہ دنیا کی ساری قوموں سے افضل ہو سکتے ہیں اور ان پر غالب آسکتے ہیں۔یہ آیت قرآن شریف کے متعلق ہے کہ اے لوگو تمہارے پاس برہان آگیا ہے۔برہان کے معنی دلیل اور حجت کے ہوتے ہیں۔دلیل اور حجت ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ کسی چیز کی صداقت کا پتہ لگتا ہے۔کوئی بات بھی دنیا میں ایسی نہیں جو بغیر دلیل یا حجت کے مانی جائے۔انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ ہر بات کے لئے دلیل تلاش کرتا ہے خواہ وہ دلیل عقلی ہو یا مشاہدہ کی۔یعنی یا تو یہ چاہتا ہے کہ اس کو عقل سے ثابت کر دیا جائے اور یا پھر اس کو دکھا دیا جائے۔پھر وہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں سمجھتا مثلاً کسی کے لئے دن ثابت کرنے کے دو ہی طریقے ہیں (۱) کہ اس کو دکھا دیا جائے کہ سورج پڑھا ہوا ہے (۲) اگر ہم اس کو سورج چڑھا ہوا نہیں دکھا سکتے تو دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کو روشنی دکھا ئیں۔تو دلیلیں دو ہی طرح کی ہوتی ہیں یا تو وہ چیز دکھا دی جائے یا پھر علامتیں بتا دی جائیں۔"