خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 376

خطبات محمود ۳۷۶ سال ۱۹۲۸ء ہوتا ہو۔کوئی فتنہ برپا ہوتا ہو تو اسے جماعت سے علیحدہ کیا جاتا ہے مگر احمدیت سے نہیں نکالا جاتا۔اور جماعت سے نکالنے اور احمدیت سے علیحدہ کرنے میں فرق ہے۔اس کی مثال ایسی ہی کی ہے کہ جب کسی کا بیٹا نا فرمان ہو جائے تو اسے عاق کر دیا جاتا ہے مگر یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ بیٹا ہی نہیں رہا۔وہ نطفہ تو اسی کا ہوتا ہے ہاں مل کر کام نہ کرنے کی وجہ سے اسے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح جسے جماعت سے نکالا جاتا ہے اسے احمدیت سے نہیں نکالا جاتا جب تک کہ وہ اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے۔تو وصیت کے متعلق اگر مجبور کیا جاتا ہو تب کوئی کہ سکتا ہے کہ یہ ٹھوکر کا باعث ہے یا جو روپیہ وصیت کا آتا ہو وہ کسی ایک شخص کی جائداد بن رہا ہو۔میرے لئے یا میرے بیوی بچوں پر خرچ ہوتا ہو تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو اس روپیہ کو دین کی اشاعت کے لئے خرچ کرنے کو کہا ہے مگر ایسا نہیں ہوتا۔پس اگر یہ روپیہ دین کے لئے لیا جاتا ہے اور دین پر خرچ کیا جاتا ہے تو پھر یہ کہنے سے کہ وصیت خاص لوگوں کے لئے ہے اور ان لوگوں کے لئے ہے جو خاص قربانی کر کے خاص درجہ حاصل کریں تو اس میں ابتلاء کی کونسی بات ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ گورنمنٹ ایف اے میں اس طالب علم کو داخل کرتی ہے جو انٹرنس پاس ہو۔اب کوئی انٹرنس تو پاس نہ کرے اور کے گورنمنٹ مجھے ایف اے میں داخل نہیں ہونے دیتی اور مجھ پر بڑا ظلم کرتی ہے تو یہ ظلم کس طرح ہوا۔جب تک ایف۔اے میں داخل ہونے کی شرط نہ پوری کی جائے اس وقت تک داخلہ کی اجازت کس طرح مل جائے؟ پس ابتلاء کی کوئی بات نہیں جس شخص نے یہ بات لکھی ہے اسے ابتلاء آیا ہو تو خبر نہیں لیکن اوروں کو نہیں آیا بلکہ وصایا میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔اس وقت میں پھر دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ان میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ کون سا کام کرے اسے پتہ لگ جائے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کر رہا ہے تو وہ علاوہ اور اصلاح کے اپنے مال کے کم از کم ۱/۱۰ حصہ کی اور زیادہ سے زیادہ ۱/۳ حصہ کی وصیت کرے۔اگر اس کا گزارہ تنخواہ پر ہو تو تنخواہ کے حصہ کی کرے اور اگر جائداد کی آمدنی پر ہے تو اس کی کرے۔اس کے بعد وہ خدا تعالی کے حضور انہی لوگوں میں رکھا جائے گا جو ایفاء عہد کرتے ہیں۔