خطبات محمود (جلد 11) — Page 375
خطبات محمود ۳۷۵ سال ۶۱۹۲۸ تھوڑے دن ہوئے مجھے رپورٹ پہنچی تھی کہ کسی شخص نے لکھا ہے وصیت کی اس تشریح کے ماتحت بہت لوگوں کو ابتلاء آرہا ہے۔مگر میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ جتنی وصیتیں اس تشریح کے بعد کی گئی ہیں اتنی کبھی پہلے نہیں کی گئیں۔اگر ابتلاء کا یہی ثبوت ہے تو میں کہوں گا کہ ایسا ابتلاء روز روز آئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم - کہ خدا تعالی کے بعد اگر محمد ﷺ کی محبت کفر ہے تو خدا کی قسم میں بڑا کافر ہوں۔پس اگر جماعت کے ابتلاء کا یہی ثبوت ہے کہ بہت لوگ صحیح طریق پر وصیتیں کرنے لگ گئے ہیں اور جنہوں نے پہلے 1/10 حصہ کی وصیت کی ہوئی تھی ان میں سے ۱/۴ اور ۱/۳ تک کی وصیتیں کر رہے ہیں تو ایسا ابتلاء روز روز آئے۔ہاں ایسا شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اسے ابتلاء آیا ہے۔مگر ابتلاء تو تب کہا جائے جب اس بارے میں کسی قسم کا جبر کیا جائے لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ وصیت کے کرانے کے لئے جبر کیا جاتا ہے۔یہ ایک نیکی ہے جو کر سکتے ہیں کریں۔اگر کوئی کہے میں ظہر یا عصر کی چار رکعت فرض نہیں پڑھ سکتا دو پڑھوں گا تو ہم اسے کہیں گے نماز پڑھنا چاہتے ہو تو چار ہی پڑھو اس میں فائدہ ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چلو تم دو یا ایک ہی رکعت پڑھ لو کیونکہ یہ کسی کو نمازی بنانے کے لئے کافی نہیں۔نمازی کے لئے ضروری ہے کہ چار ہی پڑھے اسے کوئی ابتلاء نہیں کہہ سکتا۔اسی طرح وصیت کے بارے میں احمدی کے لئے ابتلاء کی دوہی صورتیں ہو سکتی ہیں تیسری کوئی نہیں۔یا تو یہ کہ ہر ایک احمدی کو مجبور کیا جائے کہ وہ ضرور وصیت کرے تب کمزور لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری آمدنی اتنی نہیں کہ ہم وصیت کر سکیں۔مگر وصیت کرنا تو اپنی مرضی پر ہے اور یہ اخلاص کے پر کھنے کا معیار ہے ایمان کا معیار نہیں ہے۔ایمان کے لئے یہ کافی ہے کہ کوئی کہے میں خدا کو وحدہ لا شریک مانتا ہوں محمد ﷺ پر ایمان لاتا ہوں کہ وہ خدا کے بچے نبی ہیں اور اپنے زمانہ کے مامور اور مرسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانتا ہوں۔جو شخص یہ اقرار کرتا ہے اسے کوئی اسلام اور احمدیت سے نہیں نکال سکتا۔اس کے اگر اعمال خراب ہوں تو اسے خدا تعالی پکڑے گا مگر کسی کے اختیار میں یہ نہیں ہے کہ اسے اسلام سے نکال دے۔ہاں اگر وہ ان امور کا جن پر اسلام کی بنیاد ہے انکار کرے گا تو خود اسلام سے نکل جائے گا۔البتہ مقررہ نظام سے آدمی کو نکالا جاتا ہے اگر وہ ایسا کام کرے جس سے تفرقہ پیدا