خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 267

خطبات محمود ۲۹۷ سال 1927ء بھی ضروری ہے کہ پہلے قطع۔احراق - سوز - جلا دینا۔صیقل کرنا ہو۔پھر نیکی کا بیج بڑھے اور ترقی کرے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ جیسی کوئی بیماری ہو ویسا ہی علاج کیا جائے۔اور روکوں کو قطع کیا جائے۔اگر رسوم کی روک حائل ہو تو اس کو دور کیا جائے۔اگر عادت کی روک ہو تو اسے ہٹایا جائے۔اگر لوگوں کے ڈر اور خوف کی روک ہو۔تو اسے صاف کیا جائے۔اگر اپنی غلطی اور کو تاہی کی روک ہو تو استعفار پڑھا جائے۔تب جا کر فائدہ ہوگا۔ورنہ اگر روکوں کو دور نہ کیا جائے اور یوں کوئی عبادت کرے تو ممکن ہے اسے کچھ فائدہ حاصل ہو جائے مگر یہ استثنا کی صورت ہوگی طبعی فائدہ نہ ہو گا۔پس جس قسم کی کوئی مرض ہو پہلے اسے دور کرنا چاہئے پھر فائدہ کی امید رکھنی چاہئے۔دیکھو جسمانی بیماریوں میں اگر بخار ہو تو اور دوائی دی جاتی ہے۔کھانسی ہو تو اور۔غرض ہر بیماری کی علیحدہ علیحدہ دوا ہوتی ہے۔مگر روحانی معاملات میں لوگ ایک ہی علاج کرتے چلے جاتے ہیں۔جسمانی سلسلے روحانی سلسلوں کے مماثل ہوتے ہیں۔جس طرح تمام جسمانی بیماریاں ایک ہی دوا سے دور نہیں ہو سکتیں۔اسی طرح روحانی بیماریوں کا ایک ہی علاج فائدہ نہیں دے سکتا۔یہ نادانی ہے کہ ہر بیماری کا علاج ایک ہی کیا جائے۔ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس پر غور کرے اور پھر جو بیماری ہو اس کا وہ علاج کرے جس سے وہ دور ہو سکتی ہے۔جسمانی بیماریوں کی طرح روحانی بیماریوں کا بھی علاج علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے۔ہاں ایک فرق ہے۔اور وہ یہ کہ جسمانی بیماری دوسرے کو بتائی جاتی اور اس سے علاج کرایا جاتا ہے۔مگر روحانی بیماری دوسرے کو بتانی ضروری نہیں۔بلکہ بعض حالتوں میں تو اس کا بتانا منع ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کئی لوگ آتے اور آکر اپنی کمزوریاں بیان کرنے لگتے۔تو آپ منع فرما دیتے۔یہی طریق ہمارا ہے اگر کوئی بیان کرے تو اسے روک دیا جاتا ہے۔اور عام طور پر علاج بتایا جاتا ہے۔ہاں اگر کوئی خاص علاقہ پیدا کر لے۔اور اپنی اصلاح کے لئے کمزوری بتا کر اس کے دور کرنے کا طریق پوچھنا چاہے تو یہ اور بات ہے۔غرض پہلے اعوذ پڑھنی چاہئے اور پھر بسم اللہ۔کیونکہ جب بیماری دور ہو جائے گی تب ترقی ہوگی۔پہلے کھیت کو صاف کیا جائے گا تب جو بیج ڈالا جائے گاوہ پیدا ہو گا۔جس دل میں بدی کا درخت اگا ہو گا اس میں روحانیت ترقی نہیں کر سکتی۔اور اگر روحانیت کا بیج اُگے گا تو جلد مرجھا جائے گا۔اب دیکھو اعوذ اور بسم اللہ کی ترتیب میں کتنا اعلیٰ فلسفہ ہے۔کہ پہلے صفائی کی جائے تب ترقی ہوگی۔اگر مسلمان اس بات کو سمجھ لیں تو سینکڑوں جنہیں روحانی ترقی سے محروم رہنا پڑتا ہے کامیاب ہو سکتے ہیں۔(الفضل ۷ / جنوری ۱۹۲۸ء)