خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 266

خطبات محمود سال 1927ء نہیں بچ سکتے۔ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ان عادات کی اصلاح کریں۔پھر ایسے لوگ ہوں گے جنہیں خالق کی نسبت مخلوق کے خوف کی کڑی نے باندھ رکھا ہو گا۔وہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے روحانیت میں قدم نہ اٹھا سکتے ہوں گے۔ایسے لوگوں کو دیکھنا چاہئے کہ ان کے رستہ میں کیا روک ہے۔اگر لوگوں کا ڈر اور خوف روک ہو تو اسے دل سے نکال دینا چاہئے۔پھر بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے کوئی گستاخی اور بے ادبی دین کے معاملہ میں ہوئی ہوتی ہے۔اس وجہ سے ان پر شیطان کا تسلط ہو جاتا ہے۔ایسے انسان کو توبہ استغفار کثرت سے کرنا چاہئے۔اور خدا تعالٰی سے دعا مانگنی چاہئے کہ وہ غلطی اور گستاخی معاف کر دے۔پھر بعض لوگوں کے اندر یہ کمزوری ہوتی ہے کہ انہیں کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے۔اس وجہ سے وہ خاص ریاضت اور محنت نہیں کر سکتے اور اس طرح روحانی ترقیات سے محروم رہتے ہیں کئی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے انسان سوچ نہیں سکتا۔فکر نہیں کر سکتا۔ایسا شخص اگر قرآن کریم کی تلاوت کرے گا تو اسے کیا لذت آسکتی ہے۔یا عبادت میں اسے کیا لطف آسکتا ہے۔اسے چاہئے کہ ڈاکٹر سے علاج کرائے۔اور دماغی حالت کے درست کرانے کی کوشش کرے تاکہ وہ غور و فکر سے کام لے سکے۔اسی طرح مختلف قسم کی روکیں ہوتی ہیں۔اور بیسیوں قسم کی بیماریاں ہوتی ہیں اس لئے جب تک انسان أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِیمِ کی حکمت پر نظر ڈال کر ان کو دور کرنے کی کوشش نہ کرے۔اس وقت تک اس کا قدم اٹھانا کوئی نتیجہ نہیں پیدا کرتا۔ایسی حالت میں اس کا کوشش کرنا اسی طرح اندھا دھند ہوتا ہے جس طرح دو موٹریں اندھا دھند دوڑ پڑیں۔اگر ان کو درست طور پر نہ چلایا جائے گا تو وہ ٹکرائیں گی۔پس روحانی ترقی کے لئے پہلے ان روکوں کو دور کرنا چاہئے جو رستہ میں حائل ہوں۔اس کے بعد بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرّحِیمِ کا کام شروع ہو گا یعنی اس طرح انسان رو کیں دور ہو جانے کے بعد بیچ ڈالتا ہے۔اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ کے بعد دوسری چیز بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرحیم رکھی گئی جس سے یہ بتایا کہ یہ ترقی کا بیج ہے۔جب انسان روکوں کو دور کرنے کے بعد پیچ ڈالے گا تب رحمانیت اور رحمیت کے آثار ظاہر ہوں گے۔پس ہر کام کرنے سے پہلے اعوذ ہونی چاہئے جو سزا۔سختی توڑنے اور صاف کرنے کے معنی رکھتا ہے۔شیر سے بچانے کے کیا معنی ہیں۔یہی کہ شیر کو مار دیا جائے۔گھاس سے زمین کو بچانے کے کیا معنی ہیں۔یہی کہ گھاس اکھیڑ کر باہر پھینک دی جائے۔پس اعوز احراق قطع اور جلانے پر دلالت کرتا ہے۔کاٹے جانے، ٹکڑے کرنے پر دلالت کرتا ہے۔اور اس کے بعد دوسری پیدائش ہو سکتی ہے۔انسان کی روحانی پیدائش کے لئے