خطبات محمود (جلد 11) — Page 240
خطبات محمود ۲۴۰ سال 1927ء سوال پیدا ہو گیا۔اس وقت اگر رسول کریم و در میان میں نہ پڑ جاتے تو کئی مسلمان مرتد ہو جاتے۔اور کئی ایک جو ایمان کی موت مرے نفاق کی موت مرتے۔ایسا کیوں ہوتا؟ اس لئے کہ ان لوگوں نے محبت کی خاطر یہ نہ دیکھا کہ حق کیا ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہئے۔پس دنیا میں دو ہی چیزیں راستی سے پھیرنے کا موجب ہوتی ہیں۔یا تو انتہائی بغض یا پھر انتہائی محبت۔انتہائی بغض بسا اوقات معمولی واقعہ سے پیدا ہو جاتا ہے۔حضرت عمرؓ کے وقت دیکھو کتنے معمولی واقعہ سے بغض بڑھا۔جس نے عالم اسلامی کو کتنا بڑا نقصان پہنچایا۔میں سمجھتا ہوں اس واقعہ کا اثر اب تک چلتا جا رہا ہے۔حضرت عمر کے وقت ایک مقدمہ آپ کے پاس آیا۔کسی شخص کا غلام کما تا بہت تھا لیکن مالک کو دیتا کم تھا۔حضرت عمرؓ نے اس غلام کو بلایا اور اسے کہا مالک کو زیادہ دیا کرے۔اس وقت چونکہ پیشہ ور کم ہوتے تھے۔اس لئے لوہاروں اور نجاروں کی بڑی قدر ہوتی تھی۔وہ غلام آٹا پیسنے کی چکی بنایا کرتا تھا۔اور اس طرح کافی کماتا تھا۔حضرت عمر نے ساڑھے تین آنے اس کے ذمہ لگا دیئے کہ مالک کو ادا کیا کرے یہ کتنی قلیل رقم ہے۔مگر اس کا خیال تھا کہ حضرت عمر نے غلط فیصلہ کیا ہے۔اس پر اس کے دل میں بغض بڑھنا شروع ہوا۔ایک دفعہ حضرت عمر نے اسے کہا ہمیں بھی چکی بنادو۔اس پر کہنے لگا ایسی چکی بنادوں گا جو خوب چلے گی۔یہ سن کر کسی نے حضرت عمر سے کہا آپ کو دھمکی دے رہا ہے۔آپ نے کہا۔الفاظ سے تو یہ بات ظاہر نہیں ہوتی۔اس نے کہا۔لہجہ دھمکی آمیز تھا۔آخر ایک دن حضرت عمر نماز پڑھ رہے تھے کہ اس غلام نے آپ کو خنجر مار کر قتل کر دیا۔کہ وہ عمر جو کروڑوں انسانوں کا بادشاہ تھا۔جو بہت وسیع مملکت کا حکمران تھا۔جو مسلمانوں کا بہترین راہنما تھا۔ساڑھے تین آنے پر مار دیا گیا۔مگر بات یہ ہے جن کی طبیعت میں بغض اور کینہ ہوتا ہے۔وہ ساڑھے تین آنے یا دو آنے نہیں دیکھتے۔وہ اپنی پیاس بجھانا چاہتے ہیں۔ان کی طبیعت بغض کے لئے وقف ہوتی ہے۔ایسی حالت میں وہ نہیں دیکھتے کہ ہمارے لئے اور دوسروں کے لئے کیا نتیجہ ہو گا۔حضرت عمرؓ کے قاتل سے جب دریافت کیا گیا کہ تو نے یہ سفاکانہ فعل کیوں کیا تو اس نے کہا انہوں نے میرے خلاف فیصلہ کیا تھا۔میں نے اس کا بدلہ لیا ہے۔میں نے اس دردناک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے۔اس کا اسلام پر آج تک اثر ہے۔اور وہ اس طرح کہ گو موت ہر وقت لگی ہوتی ہے۔مگر ایسے وقت میں موت کے آنے کا خیال نہیں کیا جاتا۔جب قومی مضبوط ہوں۔لیکن جب قومی کمزور ہوں۔اور صحت انحطاط کی طرف ہو۔تو لوگوں کے ذہن خود بخود آئندہ انتظام کے متعلق سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔وہ ایک دوسرے سے اس بارے میں باتیں نہیں