خطبات محمود (جلد 11) — Page 241
خطبات محمود ۲۴۱ سال 1927ء کرتے۔مگر خود بخود کو ایسی پیدا ہو جاتی ہے جو آئندہ انتظام کے متعلق غور کرنے کی تحریک کرتی ہے۔اس وجہ سے جب امام فوت ہو تو لوگ چوکس ہوتے ہیں۔چونکہ حضرت عمر کے قومی مضبوط تھے۔گو ان کی عمر ۶۳ سال کی ہو چکی تھی۔لیکن صحابہ کے ذہن میں یہ نہ تھا کہ حضرت عمران سے جلدی جدا ہو جائیں گے۔اس وجہ سے وہ آئندہ انتظام کے متعلق بالکل بے خبر تھے کہ یک دم حضرت عمر کی وفات کی مصیبت آپڑی۔اس وقت جماعت کسی دوسرے امام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھی۔اس عدم تیاری کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت عثمان سے لوگوں کو وہ لگاؤ نہ پیدا ہوا جو ہونا چاہئے تھا۔اس وجہ سے اسلام کی حالت بہت نازک ہو گئی۔اور حضرت علی کے وقت اور زیادہ نازک ہو گئی۔تو محبت اور غضب ایسے جذبات ہیں جو انسان کو ایسا اکھیٹر پھینکتے ہیں کہ وہ کہیں کا کہیں جا پڑتا ہے۔محبت کی مثال یہاں قادیان میں موجود ہے کہ ایک شخص کو محبت کے ذریعہ ابتلا آیا۔گو خدا تعالی نے اسے نجات دی۔وہ مخلص احمدی ہے اور اس کی اولاد بھی مخلص ہے۔میں اس واقعہ کی تفصیل نہیں بیان کرنا چاہتا۔صرف اتنا ذ کر کرنا چاہتا ہوں کہ اس کے بچے کو جو کہ خود بھی مخلص ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی بات پر تھپڑ مارا۔اس پر اس کے منہ سے یہ بات نکل گئی اچھے مسیح موعود ہیں اس وجہ سے اسے قادیان سے نکلنا پڑا۔مگر خدا تعالٰی نے اس ابتلا سے اسے نجات دی۔اور وہ پھر قادیان میں آگئے۔اگر اس وقت پوچھا جاتا تو یہی کہتے اور آج بھی یہی کہتے ہیں کہ تھپڑ کیا ہم تو مسیح موعود کے لئے جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔مگر ایک وقت ایسا آیا جب کہ سب کچھ بھول گیا۔اور صرف یہ یاد رہ گیا کہ میرا بیٹا ہے خدا تعالٰی نے اس ابتلا سے ان کو بچا لیا۔مگر ہر شخص کی یہ کیفیت نہیں ہوتی بعض جن کے اندر اخلاص ہوتا ہے وہ ایسی غلطی کر کے بیچ جاتے ہیں۔مگر عام طور پر نوے فیصدی ایسے غلطی کر کے نہیں بچ سکتے۔اس کی مثال پھٹے ہوئے کپڑے کی ہوتی ہے جو پورے طور پر جُڑ نہیں سکتا۔کچھ رفو ہو سکتا ہے ٹکڑے مل سکتے ہیں مگر داغ ضرور باقی رہتا ہے اور اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک ایسا انسان اپنے اوپر نئی موت وارد نہ کرے۔ایسے لوگوں میں سے دس فیصدی ایسے رفو ہو جاتے ہیں جن کا پتہ نہ لگے۔اور بعض تو اپنے اخلاص اور محبت میں پہلے سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔مگر خطرہ یہی ہوتا ہے کہ ٹھوکر لگنے پر کم لوگ بچتے ہیں۔ہاں جن میں اخلاص ہو۔جن پر شیطان نے عارضی طور پر غلبہ پالیا ہو۔جنہیں اس بات کا احساس ہو کہ اپنی غلطی کو مٹانا آسان نہیں ہے وہ اپنی غلطی مٹاسکتے ہیں۔کیونکہ ایسے لوگوں کی اللہ تعالی مدد کرتا ہے۔انسان کے لئے رفو کرنا مشکل ہے لیکن اللہ تعالی کے لئے مشکل نہیں