خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 17

خطبات محمود 14 سال 1927ء کا فر کو مارنا ہی ہے۔خود اپنے امن کو اپنے ہاتھوں برباد کرنا ہے۔اور اس کی ذمہ داری آریوں پر ہی لوٹے گی جو مسلمانوں کے دلوں میں یہ ڈال رہے ہیں کہ تمہارے مذہب کے مطابق یہی ضروری ہے کہ تم ہمیں ضرور قتل کرو۔اس فعل کے وقوع پر جہاں دوسرے مسلمانوں نے اظہار نفرت کیا ہے خواہ بعض نے بد دیانتی سے اظہار نفرت کیا کیونکہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ آنے والا مسیح کفار کو تلوار سے مارے گا۔ان کا یہ عقیدہ بتاتا ہے کہ کافروں کا قتل ضروری ہے لیکن بہر حال تمام مسلمان لیڈروں نے اظہار نفرت پر آواز اٹھائی ہے۔مگر باوجود اس کے آریہ اسلام پر خطر ناک حملے کر رہے ہیں۔میں انہیں بتاتا ہوں جب کہ وہ ہماری امن پسند تعلیم سے واقف ہیں۔جیسا کہ وہ خود بھی اقرار کر چکے ہیں۔کہ ہمارا یہ اعلان نفرت کسی ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے بھائیوں کی ہمدردی کی وجہ سے ہے۔پس اب باوجود ان کے واقف ہو جانے کے پھر اگر کوئی مذہبی مقابلہ انہوں نے شروع کیا جیسا کہ پہلے علاقہ ارتداد میں ہوا تھا۔تو اس کا شکوہ ہم پر نہیں ہو گا۔بلکہ اس کی ذمہ داری ان پر ہوگی۔وہ اس بات کو یاد رکھیں کہ اگر اب انہوں نے اسلام پر اعتراضات شروع کئے اور اس کے مقابل کھڑے ہوئے تو سب سے پہلی قوم جو ان کے مقابل ہو گی وہ ہماری جماعت ہوگی۔اگر وہ اسلام کے خلاف ایک انگلی اٹھا ئیں گے تو ہم ان کے مقابل کئی انگلیاں اٹھا ئیں گے۔اگر وہ اسلام پر ایک حملہ کریں گے تو ہم ان کے مقابل دو حملے کریں گے۔میرے نزدیک اس سے بڑھ کر کمینہ فعل کونسا ہو سکتا ہے کہ ان کے ایک آدمی کے مارے جانے پر ہم تو ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔اور وہ ہمارے مذہب کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔دراصل اللہ تعالٰی نے اس واقعہ کے ساتھ اسلام کی عظمت اور رنگ میں ظاہر کی ہے اور وہ اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ ہندو قوم کے افراد نے کنار پور میں سینکڑوں مسلمان مردوں کو ہی نہیں عورتوں اور بچوں کو آگ میں جلا جلا کر مارا۔یہ کس قدر ظالمانہ فعل تھا جس کے مرتکب ہندو قوم کے افراد تھے۔لیکن ایک سرے سے دوسرے سرے تک دیکھ جاؤ ایک ہندو نے بھی اس فعل پر اظہار نفرت نہ کیا اور ہمدردی کی آواز نہ اٹھائی۔اس کے خلاف ان کے ایک آدمی کے مارے جانے پر ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے تک تمام مسلمان اظہار نفرت اور ہمدردی کی آواز اٹھاتے ہیں۔اس لئے گویہ فعل ایک جاہل مسلمان کے ہاتھ سے ہی ہوا۔مگر اس میں بھی ہماری فتح ہے۔اور اس ظلم میں بھی ہم ہی مظلوم ہیں۔دیکھو کٹار پور میں مسلمانوں کی عورتوں اور