خطبات محمود (جلد 11) — Page 200
خطبات محمود ۲۵ سال 1927ء ہماری ترقی کار از ہماری روحانی طاقت میں ہے فرموده ۹ ستمبر۱۹۲۷ء بمقام شمله) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ہر ایک بیماری کا علاج جب تک صحیح طریق پر نہ کیا جائے کبھی بھی پورے طور پر شفاء نہیں ہو سکتی۔یہی اصل انفرادی اور قومی بیماریوں کے علاج کے لئے ہے۔اس وقت جو مسلمانوں کے لئے تکلیف اور مصیبت کے دن ہیں۔ان تکالیف اور مصائب سے نجات ممکن نہیں جب تک صحیح طور پر علاج نہ کیا جائے۔اور وہ صحیح علاج جو ان کو ہر قسم کے دکھوں سے شفاء دے خدا تعالیٰ کے بتائے بغیر نہیں ہو سکتا۔اور جب تک خدا تعالی کے بتائے ہوئے علاج اور طریقہ پر کار بند نہ ہوں گے ان قومی امراض سے شفاء نہیں ہوگی۔عام طور پر لوگوں کو یہ بھی ٹھو کر لگتی ہے کہ وہ قومی اور مذہبی ترقی میں امتیاز و فرق نہیں کرتے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صحیح اصول کو چھوڑ دیتے ہیں اور کامیاب نہیں ہوتے۔قومی اور مذہبی ترقی کے اصول جدا جدا ہیں۔اسلام کسی قوم کا نہیں بلکہ وہ ایک مذہب ہے اور اس کے اندر بہت سی قومیں ہیں۔اگر محض قومی اصول کو مد نظر رکھا جائے تو بھی مسلمان ترقی نہیں کر سکتے۔اس لئے کہ مختلف قوموں کی ترقی کے جدا جدا لاسباب ہوتے ہیں۔ہر ایک قوم کی ترقی کے لئے اس کے حالات اس کی ضروریات اس کی روایات و عادات اور اس کے ماحول پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے۔اگر ان امور کو نظر انداز کر دیا جائے تو بجائے اس قوم کی ترقی کے تنزل ہوتا ہے۔لیکن جب ان امور پر غور کر لیا جاتا ہے تو ایک نتیجہ نکل آتا ہے اور ترقی کی راہوں کے لئے ایک طریق مستقیم پیش ہو جاتا ہے۔ہم دیکھیں گے کہ اس قوم میں فلاں باتیں خصوصاً پائی جاتی ہیں جو خصوصیات قومی ہوں گی۔فلاں قومی کمزوریاں ہیں جن کو دور کرنا ضروری ہے کہ بغیر اس کے ترقی نہیں ہو سکتی۔اور فلاں خوبیاں ہیں جن کی تربیت سے ان میں اور