خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 185

خطبات محمود ۱۸۵ سال 1927ء نگرانی ہے۔یہ غلط ہے کہ کام ہی خدا کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔جو کچھ کیا جاتا ہے وہ نگرانی ہوتی ہے۔اور کوشش کرنا انسان کا کام ہوتا ہے۔دیکھو جب کسی جرنیل کے سپرد فوج کی جاتی ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ سپاہی اپنے گھروں کو چلے جائیں اور صرف جرنیل اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرے۔یا اگر مریض کسی ڈاکٹر کے سپرد کیا جاتا ہے تو ڈاکٹر کا یہ کام نہیں ہو تا کہ خود اس کے لئے دوائی تلاش کرتا پھرے اور مریض کے لواحقین بے فکر ہو کر بیٹھ رہیں۔اسی طرح جب کسی وکیل کے سپرد مقدمہ کیا جاتا ہے تو مقدمہ والا بے فکر ہو کر گھر میں اس لئے نہیں بیٹھ رہتا کہ سب کام وکیل خود ہی کر لے گا۔غرض دنیا میں تمام کام جب کسی کے سپرد کرتے ہیں تو یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ نگرانی کرے گا۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ نگرانی خدا تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔اور جب تو کل کے یہ معنی ہوئے۔تو لا ز ما دو سرا قدم یہ ہوتا ہے کہ جس کی نگرانی میں کوئی کام دیا جائے اس کی ہدایات بھی مانی جائیں۔مثلاً جب ڈاکٹر کے سپرد مریض کیا جائے تو جو کچھ ڈاکٹر کے وہ مانا جاتا ہے اسی طرح جب وکیل کے سپرد مقدمہ کیا جائے تو جو کچھ اس کے متعلق وہ کے وہ ماننا ضروری ہوتا ہے۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ کے سپرد کام کیا جاتا ہے تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ جو باتیں خدا تعالیٰ کے گاوہ مانیں گے۔اور جو اسباب مہیا کرنے کا حکم دیگا وہ مہیا کریں گے یہ دوسرا حصہ تو کل کا ہوتا ہے۔تیسری چیز یہ ہے کہ جس کے سپرد کوئی کام کرتے ہیں اس پر اعتماد رکھتے ہیں اور بغیر اعتماد کے توکل کامیاب نہیں ہو سکتا۔مثلاً ڈاکٹر کے سپرد مریض کریں۔لیکن ڈاکٹر کا نسخہ اس خیال سے استعمال نہ کریں کہ ممکن ہے اس کا خراب اثر ہو۔یا کسی وکیل کے سپرد مقدمہ کریں۔اور وہ کے فلاں document لاؤ تو اس وجہ سے نہ لائیں کہ ممکن ہے وکیل اسے ضائع کر دے۔تو نہ مریض کو فائدہ ہو سکتا ہے اور نہ مقدمہ کرنے والے کو۔پس تیسری بات تو کل کے لئے یہ ضروری ہے کہ کامیابی کی امید ہو۔مایوسی نہ ہو۔یہ تینوں حصے تو کل کے اگر مسلمانوں میں پیدا ہو جائیں تو یقینا ان کے لئے کامیابی ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کے سپرد اپنے کام کر دیں۔خدا تعالیٰ سے ہدائتیں چاہیں۔شیطان اور طاغوت سے مشورہ طلب نہ کریں۔پھر خدا تعالٰی کی دی ہوئی عقل سے کام لیں۔شریعت نے جو گر بتائے ہیں ان پر عمل کریں۔پھر امید نہ چھوڑیں۔یہ باتیں پیدا کر لیں تو پھر دیکھیں کس طرح آنا فانا ان میں تغیر پیدا ہوتا ہے۔اس وقت مسلمانوں کی جو مسکینی کی حالت ہے وہ نہایت ہی قابل رحم حالت ہے۔جن لوگوں