خطبات محمود (جلد 11) — Page 159
خطبات محمود 109 سال 1927ء موجودہ مشکلات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے (فرموده ۲۴۔جون ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَ إِخْوَانُكُمْ وَ أَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ واقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ تَرْضَوْنَهَا أحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِاَمْرِهِط وَاللّهُ لا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفُسِقِينَ (توبه : ۲۳) اس آیت کو اس خطبہ جمعہ میں جو میں نے ڈلہوزی کے مقام پر پڑھا تھا تلاوت کرتے ہوئے مجھے معلوم نہ تھا کہ ہماری جماعت کے ایک فرد کو بھی اسی قسم کا ایک موقع پیش آنے والا ہے جس نے اسی آیت کے حکم کے ماتحت اپنے آرام و آسائش کو رسول کریم اے کی عزت کے لئے قربان کر دیا۔اللہ تعالی کے ابتلاؤں اور آزمائشوں کی خواہش کرنا اسلام کے بالکل خلاف ہے۔لیکن جب کسی کی خدا تعالی کی طرف سے آزمائش ہو۔اور وہ اس میں پورا اترے تو ایسا انسان اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اسے مبارک دی جائے کہ اس نے حق ادا کیا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مِنْهُم مَنْ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ ينتظر (۱) حزاب: ۲۴) اور فرماتا ہے۔خدا کی راہ میں مرنے والوں کو مردہ مت کہو۔وہ زندہ ہیں۔جو خدا کی راہ میں جان دیتا ہے اسے کیوں مردہ کہہ کر دو سروں کے دلوں میں ڈر اور خوف پیدا کرتے ہو۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور اس کے دین کی عظمت کے لئے تکلیف اٹھا نا خوشی اور مسرت کا موجب ہے۔ایسا انسان اتنا ہمدردی کا مستحق نہیں جتنا مبارکباد کا مستحق ہے۔میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کے بہت سے لوگوں کے دلوں میں جوش پیدا ہوتا ہو گا کہ اس وقت جب کہ رسول کریم ﷺ کی عزت پر نا پاک سے ناپاک حملے کئے جارہے ہیں۔اور آپ کی عزت کی حفاظت کے لئے موجودہ قانون میں کوئی طاقت نہیں ہے وہ کیا کریں۔کون سی قربانیاں کریں۔قَضَى