خطبات محمود (جلد 11) — Page 107
خطبات محمود سال 1927ء انصار نے سمجھا کہ ہم سے پوچھتے ہیں۔ابتداء میں ان سے ایک معاہدہ ہو ا تھا۔جس میں یہ شرط تھی کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو ہم لڑیں گے۔لیکن مدینہ سے باہر جاکر نہیں لڑیں گے۔اب باہر جا کر لڑنا تھا اس لئے ان سے پوچھا گیا تھا۔ایک انصاری نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ وہ زمانہ اور تھا جب ہم نے آپ سے معاہدہ کیا تھا جب ہم نے آپ کو خدا کا سچار سول مان لیا تو پھر معاہدہ کیسا۔آپ تو یہاں فرماتے ہیں اگر آپ کہیں تو ہم سمندر میں گھوڑے ڈال دیں گے۔آپ کے دائیں اور بائیں لڑیں گے۔اور آپ تک کوئی دشمن اس وقت تک نہ پہنچ سکے گا۔جب تک ہماری لاشوں کو ردند تا ہوا نہ آئے گا ہے پھر حدیثوں سے ثابت ہے سب سے بہادر صحابی وہ سمجھا جاتا تھا جو دوران جنگ میں رسول کریم کے پاس کھڑا ہو کر لڑتا تھا۔کیونکہ حملہ کا سارا زور اس جگہ ہو تا تھا میں پوچھتا ہوں۔جب خدا تعالیٰ نے آپ کے متعلق يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة :۶۸) فرمایا ہے۔تو پھر حفاظت کی کیا ضرورت تھی۔چاہئے تھا صحابہ آپ کو آگے کر دیتے اور خود پیچھے بھاگ جایا کرتے۔مگر ایسا نہیں کیا جا تا تھا۔بلکہ حفاظت کی پوری پوری کوشش کی جاتی تھی۔پس یہ کہنا کہ مکہ کی حفاظت کی ہمیں ضرورت نہیں۔سخت نارانی کی بات ہے۔مکہ اور مدینہ خواہ کتنی ہی محترم جگہ ہوں۔محمد ﷺ سے بڑھ کر نہیں ہو سکتیں۔مدینہ کی برکت کیوں ہے محمد کی برکت کی وجہ سے۔اسی طرح مکہ کی برکت کیوں ہے! حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وجہ سے۔پس جن کی وجہ سے ان مقامات کو برکت حاصل ہوئی۔وہ زیادہ مبارک ہیں یا یہ جگہیں۔مکہ حقیقتاً کیا ہے۔اینٹ پتھروں کی عمارتوں کا مجموعہ ہے۔مگر محمد ا تو خدا تعالیٰ کا زندہ نور تھے۔ان کے مٹنے سے ایمان اور نور متا تھا۔مگر مکہ کے مٹنے سے کیا مٹ جاتا۔پس اگر کسی کی حفاظت کی ضرورت تھی تو وہ رسول کریم کا وجود تھا۔بے شک مکہ اور مدینہ کی حفاظت کا وعدہ خدا تعالیٰ نے کیا ہے مگر رسول کریم ان کی حفاظت کے وعدہ سے زیادہ نہیں۔اور اگر محمد ا کی حفاظت کے لئے ظاہری تدبیریں ضروری تھیں تو مکہ کی حفاظت کے لئے کیوں نہیں۔پس اس حملہ کے مقابلہ کے لئے جو اسلام کو مٹانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔مسلمانوں کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ اسلام کو مٹ جانے دیا جائے یا بچانے کی کوشش کی جائے۔کوئی بھی مسلمان کہلانے والا کبھی یہ پسند نہ کرے گا کہ اسلام مٹ جائے۔اس لئے ضروری ہے کہ سب جماعتیں خواہ وہ سنی ہوں یا شیعہ - چکڑالوی ہوں۔یا حنفی۔احمدی ہوں یا غیر احمدی۔مل جائیں اور ایسی تدبیر اختیار کریں