خطبات محمود (جلد 11) — Page 108
خطبات محمود (A سال 1927 کہ ہندوستان کا کوئی میدان اور کوئی کو نہ ایسا نہ رہ جائے۔جس میں ہندوؤں کے اس حملہ کا جواب دینے والا کوئی نہ کوئی موجود نہ ہو۔جب تک اس ارادہ اور اس عزم کے ساتھ مسلمان کھڑے نہ ہوں گے۔اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔اس وقت مسلمانوں کے پاس حکومت نہیں تجارت نہیں ، بنک نہیں ، رعب نہیں ، مگر ہندوؤں کے پاس یہ سب باتیں ہیں جن سے وہ کمزور مسلمانوں پر دباؤ ڈال سکتے اور گمراہ کر سکتے ہیں۔ہندوؤں کو صرف اپنا منشا اور مدعا پیش کرنے کی دیر ہے۔ہزاروں لوگ ایسے موجود ہیں جو ان کے لالچ میں آکر ہندو ہو جائیں گے۔پس مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔کہ ہر وہ طریق جو جائز ہو۔اور جو فتنہ و فساد سے الگ ہوا سے اختیار کریں۔اور ایسا انتظام کیا جائے کہ اتحاد سے اس حملہ کا مقابلہ کیا جائے۔یقیناً اسلام میں اس وقت بھی وہ قوت اور طاقت موجود ہے کہ اسے غلبہ حاصل ہو سکتا ہے۔اور اس وقت بھی ایسے دلائل اور براہین حاصل ہیں کہ ہندو کیا کوئی قوم بھی اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو دنیا تک پہنچایا جائے۔خدا تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ چہکتی ہوئی تلوار مسلمانوں کو دی ہے۔اب ضرورت ہے کہ اس تلوار کے چلانے والے ہر جگہ ہوں۔میں اپنی جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ چھوٹے چھوٹے اختلاف مٹاکر سب سے ملنے کے لئے تیار ہو جائیں۔اگر کوئی اہلحدیث ممبر پر کھڑا ہو کر گالیاں بھی دیتا ہو تب بھی اس کی مدد کرنے کے لئے تیار رہو۔اور اسے کہو اس وقت ہم اسلام کو بچانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔آپ کا جواب دینے کی ہمیں فرصت نہیں ہے۔اسی طرح خواہ کوئی تمہارا کتنا ہی دشمن ہو۔اس کی دشمنی کو نظر انداز کر دو۔اگر کوئی گالی دے تو تم اسے دعا دو۔اگر کوئی تمہیں تھپڑ مارے تو اس کا بوجھ اٹھالو - تا ئم میں یہ تبدیلی دیکھ کر اس میں بھی تبدیلی پیدا ہو۔اور وہ بھی اسلام کی خدمت کے لئے تیار ہو جائے۔پس ضرورت ہے کہ تم لوگ نمونہ دکھاؤ اگر تم نمونہ دکھاؤ گے۔تو دوسروں میں بھی ضرور تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔اور مسلمانوں میں وہ روح نظر آنے لگے گی جو زندگی کی علامت ہوتی ہے۔جسے دیکھ کر دشمن مایوس ہو جائے گا۔اور اپنی ناکامی اور نامرادی اپنی ذلت اور شکست اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے گا۔اور بجائے اس کے کہ اوم کا جھنڈا مکہ میں گڑے اسلام کا جھنڈا ساری دنیا میں گاڑا جائے گا۔پس خوب اچھی طرح سمجھ لو یہ وقت بہت نازک ہے۔دیر اور ستی کا قطعاً موقع نہیں۔میں اپنے سب دوستوں سے چاہتا ہوں کہ آج سے ہی وہ اپنے اندر خاص تبدیلی پیدا کریں۔اور دوسروں کو اس وقت کی نزاکت سمجھائیں۔پس آج سے اپنے چھوٹے چھوٹے اختلاف مٹادو۔اور