خطبات محمود (جلد 11) — Page 84
خطبات محمود ۸۴ سال 1927ء محمود عطا کر۔یہ تو تمہارا کام ہے کہ تم رسول کو اس مقام پر کھڑا کرو۔پس یہ ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی دعا تھی۔جس میں مسلمانوں کو انکی زندگی کا سارا کام بتا دیا گیا تھا۔مگر افسوس کہ مسلمان دن میں کئی بار پڑھنے کے باوجود اس کی حقیقت سے غافل ہیں۔اسلام کے ابتدائی ایام میں اس کی طرف توجہ ہوئی لیکن بعد میں سینکڑوں سال سے غفلت ہو رہی ہے۔اب احمدی جماعت نے پھر اس زمانہ میں اس کی طرف توجہ کی ہے۔مگر یہ سارے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس وقت وہ اس دعوت نامہ میں لگ جائیں۔مسلمان کہتے ہیں اسلام وہ تلوار ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا پھر کیا مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ وہ اس تلوار کو لے کر گھروں۔روں سے نکلیں لیکن مسلمان اس طرف سے غافل ہیں۔کیا ایک شخص جو جانتا ہے کہ میرے ہتھیار تیز ہیں اور میری تلوار کا کانا بچتا نہیں۔وہ دشمن کے حملہ کرنے کے موقع پر گھر میں بیٹھا رہتا ہے۔اگر واقعہ میں مسلمانوں کو یقین ہو تا کہ یہ وہ تلوار ہے جس کا کاٹا بچتا نہیں تو وہ ضرور اسے استعمال کرتے۔وہ مونہوں سے ہزار دفعہ اتِ مُحَمَّدَانِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ کہیں۔وہ کہتے رہیں کہ اے خدا تو آنحضرت ا کو وسیلہ اور فضیلت دے۔مگر اس کا کیا فائدہ جب تک وہ ایسے کام نہیں کرتے جن سے رسول کریم ﷺ کو یہ مقام محمود مل سکتا ہے۔سوچو آنحضرت ﷺ کو وہ مقام کیونکر ملے جس کا تعلق ہم سے ہے۔جب کہ ہماری طرف سے اس کے لئے کوشش نہیں ہوتی۔ایک جرنیل ایسے وقت میں جب لڑائی ہو رہی ہو اپنے گھر کے دروازے بند کرے۔زیرہ اتار دے۔ہتھیار الگ کر دے۔چارپائی پر لیٹ جائے۔لحاف اوڑھ لے۔اور منہ سے کہے۔ہمارے بادشاہ کا ملک وسیع ہو جائے۔اسے فتح حاصل ہو۔تو کون اسے عقلمند اور بادشاہ کا خیر خواہ کے گا۔جب کو جنگ شروع ہے تو اس کا فرض ہے کہ ہتھیار لگا کر باہر آئے اور لڑے۔پھر یہ کہے تو بادشاہ کا خیر خواہ کہلائے گا۔ورنہ اگر گھر میں بیٹھا رہتا ہے۔تو وہ انعام کا مستحق نہیں سزا کا مستحق ہے۔اور اس لائق ہے کہ سر بازار اس کے جوتے لگائے جائیں۔کیونکہ وہ جنگ کے وقت لحاف اوڑھ لیتا اور صرف منہ سے کہتا ہے ہمارے بادشاہ کا ملک وسیع ہو۔صرف منہ سے کہنے سے بادشاہ کا ملک وسیع نہیں ہو گا بلکہ جنگ کرنے سے ہو گا۔اگر وہ سچا ہے تو اسے چاہئے تھا کہ تلوار لے کر باہر آتا اور دشمن سے لڑتا۔لیکن بغیر لڑنے کے جو ایسا کہتا ہے۔جھوٹ کہتا اور سزا کے لائق ہے۔وسیلہ اور فضیلت یہ ہے کہ تبلیغ اور اصلاح کے ذریعہ رسول کریم ان کو وہ مقام محمود حاصل ہو۔جو پہلے نبیوں کو نہیں ملا۔اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ مثلاً اگر حضرت موسیٰ دس