خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 83

خطبات محمود Ar سال 1927ء آپ کو مقام محمود حاصل ہو جائے گا۔خدا مسلمانوں کو توفیق دے کہ رسول کریم ﷺ ان کے ذریعے اس مقام محمود پر کھڑے ہو جائیں یہ وہ کام ہے جس میں اگر مسلمان غفلت کریں تو رسول کریم کو مقام محمود حاصل نہیں ہو سکتا باقی جو قیامت کے دن کا مقام محمود ہے وہ خدا تعالٰی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور وہ تو آپ کو مل چکا ہے۔جو آپ کو ملنے والا ہے اور جو آذان اور نماز کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ ساری دنیا کو تبلیغ کر کے آپ کے ثنا خوانوں میں داخل کرنا اور اپنی اصلاح کرنا ہے۔اذان تبلیغ کی قائم مقام ہے اور نماز اصلاح کی قائم مقام پس مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ ایک طرف تبلیغ کریں اور دوسری طرف اصلاح نفس۔پھر آنحضرت ا اس مقام محمود پر پہنچ سکتے ہیں جو ہمارے اعمال سے تعلق رکھتا ہے۔تبلیغ ہو اور اس حد تک ہو کہ دنیا کے سب آپ کی تعریف کرنے والے ہو جائیں اور کوئی بھی برائی اور مذمت کرنے والا باقی نہ رہے۔پھر اصلاح نفس ہو۔اور اس درجہ تک ہو کہ دشمن اور سخت سے سخت مخالف بھی اگر ایک مسلمان کو دیکھیں۔تو اس کی تہذیب اس کی شائستگی اس کے تقویٰ اس کی طہارت اور اس کے تزکیہ کو دیکھ کر کہہ اٹھیں واہ واہ کیا ہی اچھا اور اعلیٰ نمونہ ہے۔اور مبارک ہے وہ استاد جس نے ان کو ایسا بنایا۔لیکن اگر تبلیغ نہ کی جائے تو آنحضرت اللہ کی تعریف کرنے والوں کا دائرہ بہت محدود ہو جائے گا۔اور مذمت کرنے والوں کا دائرہ بہت بڑھ جائے گا۔اور جو تعریف کرنے والے ہونگے۔ان میں سے بھی بہت مذمت کرنے والوں کی طاقت سے ڈر کر تعریف نہ کریں گے۔اس طرح آپ کی مذمت کرنے والے تو بڑھتے رہیں گے۔اور تعریف کرنے والے کم ہوتے جائیں گے۔اور جب تعریف کرنے والوں کی کمی ہو اور مذمت کرنے والوں کی کثرت تو کس طرح رسول کریم ہے کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے لحاظ سے آپ کو مقام محمود حاصل ہو گیا۔آنحضرت ا کو مقام محمود تک پہنچانے کے دو ہی ذریعے ہیں۔اور وہ یہ کہ دوسروں میں تبلیغ اور اپنی اصلاح نفس۔جو شخص تبلیغ کو کمال درجے تک پہنچاتا ہے۔اور نفس کی اصلاح رات دن کرتا رہتا ہے۔وہ تو حقدار ہے کہ کے اے خدا تو رسول کریم اے کو مقام محمود پر کھڑا کر۔لیکن جو شخص نہ تبلیغ کرتا ہے۔اور نہ اپنے نفس کی اصلاح اس کا حق نہیں کہ کے وَابْعَثْهُ مُقَامًا محمودا کیا اس کی دعا اس کے منہ پر نہ ماری جائے گی کہ کیا سری گلی چیز لایا ہے۔دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں تو ان میں تبلیغ نہیں کرتا ان کو اسلام میں نہیں لاتا۔اور نہ اپنے نفس کی اصلاح کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے۔محمد رسول اللہ ا کو مقام