خطبات محمود (جلد 11) — Page 509
سال ۱۹۲۸ء ۵۰۹۔۔۔مخالفت سے گھبرانا نہیں بلکہ فائدہ اٹھانا چاہئے فرموده ۹/ نومبر ۱۹۲۸ء) تشهد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ہر سلسلہ جو اللہ تعالی کی طرف نے قائم ہوتا ہے اور ہر آواز جو آسمان سے بلند ہوتی ہے اس کے ساتھ کچھ مخالفتیں بھی لگی ہوتی ہیں۔اللہ تعالٰی قرآن شریف میں اپنے نبیوں کے متعلق فرماتا ہے۔وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولِ وَلَا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أمنيته (الج ۵۳) کہ جب کسی کام کو نبی شروع کرتے ہیں اور کسی بات کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کے ارادہ کے پورے ہونے کے راستہ میں شیطان روکیں ڈالتا ہے۔خدا تعالی فرماتا ہے یہ قانون ہے اور اٹل قانون ہے کبھی ایسا نہ ہو گا کہ خدا تعالٰی کے دین کی اشاعت کے لئے اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لئے کوئی نبی کھڑا ہو اور اس کے رستہ میں روکیں نہ ڈالی جائیں۔ہم جب قانون قدرت کو دیکھتے ہیں یہی نظارہ وہاں بھی نظر آتا ہے۔ہر ایک اچھی چیز جو ہے اس کے ساتھ کچھ برائی بھی لگی ہوئی ہے۔ہر حسن کے ساتھ کچھ بد صورتی بھی ہوتی ہے۔جس جگہ خدا تعالی کی طرف سے اعلیٰ سے اعلیٰ خوبصورت نظارے پیدا کئے جاتے ہیں ان کیساتھ ہی کچھ ہلاکت کے گڑھے بھی ہوتے ہیں۔پہاڑوں کی چوٹیاں اگر ایک طرف حسن اور خوبصورتی کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں تو ساتھ ہی ان کی غاریں ایک بے پناہ ہلاکت کی طرف بلا رہی ہوتی ہیں۔دریا اور سمندر اگر اپنے اندر ہزاروں قسم کی خوراک اور زینت و زیبائش کے سامان رکھتے ہیں تو ساتھ ہی ہلاکت اور تباہی کے سامان بھی رکھتے ہیں۔غرض دنیا میں ہر ایک جگہ اچھے کے ساتھ برا بھی نظر آتا ہے۔پس جس طرح قانون قدرت یہ نظارہ پیش کرتا ہے اسی طرح قانون شریعت میں نیکی کے ساتھ بدی اور بھلائی کے ساتھ برائی لگادی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انسان کی پیدائش 11۔