خطبات محمود (جلد 11) — Page 493
سال ۱۹۲۸ء خطبات محمود ۴۹۳ گوارا نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی غرض یہ نہیں کہ کفر کے فتوے کو مٹایا جائے بلکہ یہ ہے کہ ہمیں مٹایا جائے کیوں ان کا سارا زور ہمارے خلاف لگتا ہے۔بے شک کبھی کبھی وہ بھی لکھ دیتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایسے فرقے ہیں جو ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں ان کی مخالفت کرنی چاہئے۔مگر کبھی نام لے کر انھوں نے اس طرح دیو بندیوں کو مخاطب نہیں کیا اور نہ ان کے خلاف اتنا زور صرف کیا ہے جتنا ہمارے خلاف کرتے ہیں۔نام لے کر ہمارے ہی پیچھے پڑے رہتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ ہمیں کمزور سمجھتے ہیں اور مشہور ہے نزلہ بر عضو ضعیف می ریزد پس ہمارے خلاف اس قسم کے مضامین اخباروں میں شائع کرنے سے ان کی غرض محض لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکانا ہے نہ کہ مسئلہ کفر و اسلام کی تحقیق کرنا یا ہمیں اشتعال دلانے کے لئے اس طرح کرتے ہیں تاکہ ہم مشتعل ہو کر اس بحث میں پڑ جائیں اور اتحاد کی تحریک کو جو متفقہ اور متحدہ مقاصد کے لئے ہے چھوڑ دیں حالانکہ میں اس تحریک کے ساتھ ہی یہ بیان کرتا رہا ہوں کہ کفر و اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ ان امور کے متعلق ہے جو سب مسلمانوں میں مشترک ہیں اور جن کا اثر سب فرقوں کے مسلمانوں کو پہنچتا ہے۔لیکن کہا جاتا ہے "دشمن بات کے ان ہوئی۔یہی ان کی حالت ہے ان کی غرض پبلک کو ہمارے خلاف اشتعال دلانا اور بھڑکانا تھی۔وہ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ خواہ ہماری جماعت کتنی چھوٹی ہے مگر اس نے اسلام کی اتنی خدمت کی ہے جتنی سارے مسلمان مل کر بھی نہیں کر سکتے۔اگر ان لوگوں کو اسلام سے محبت ہوتی تو خواہ ہمیں بد ترین کا فرہی سمجھتے یہ خیال کر لیتے کہ خدا تعالٰی ہم سے اسلام کی خدمت لے رہا ہے اور وہ فاسق وفاجر سے بھی اپنے دین کی خدمت لے لیتا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ جنگ میں لڑتے ہوئے ایک شخص کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ جہنمی ہے مگر خدا تعالی رجل فاسق وفاجر سے بھی دین کی خدمت لے لیتا ہے۔کہ دیکھو جب وہ مسلمانوں کی طرف سے ہو کر لڑ رہا تھا اس وقت اس کے متعلق یہ تو کہا گیا کہ یہ جہنمی ہے مگر یہ نہیں کیا کہ اسے الگ کر دیا ہو ا سے لڑنے دیا۔لیکن اس وقت جب کہ اسلام سے ساری دنیا کی لڑائی شروع ہے اور ہم اسلام کی حفاظت کے لئے مخالفین اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے یہ لوگ ہمارے پیچھے پڑ گئے اور لوگوں سے کہنے لگے یہ اسلام کے دشمن ہیں انہیں اسلام کی حفاظت کا کام کرنے سے روک دو۔انہیں دیکھنا یہ چاہئے تھا کہ جو تحریک ہم نے مخص