خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 494

خطبات محمود ۴۹۴ سال ۱۹۲۸ء کی ہے وہ اسلام سے دشمنی ہے یا اسلام کی خدمت اگر اسلام کی خدمت تھی تو کتنے تعجب کی بات ہے کہ محمد ال جیسے باغیرت انسان نے تو اس شخص کو مسلمانوں کے ساتھ مل کر کفار سے لڑنے دیا جو جہنمی تھا مگر انہوں نے یہ گوارا نہ کیا کہ ہم اسلام کی کوئی خدمت کر سکیں۔کیا یہ رسول کریم ان سے بھی زیادہ اسلام کے لئے باغیرت تھے۔بات یہ ہے کہ سوائے فساد ڈلوانے اور فتنہ پیدا کرنے کے ان کی کوئی غرض نہ تھی۔تھے۔پھر انہوں نے اسی پر بس نہ کی جب کچھ لوگوں نے ہم پر ذاتی الزام لگانے شروع کئے تو ان لوگوں کے بڑے حصہ نے ان بہتانوں کو پھیلانا شروع کیا۔اس کا یقینی ثبوت ہمارے پاس موجود ہے۔میں معزز غیر احمدیوں کے ثبوت پیش کر سکتا ہوں جنہوں نے ان کی مجالس کے حالات لکھے اور بتایا کہ کس حقارت آمیز طریق سے ان بہتانوں کا ذکر کیا جاتا تھا۔بے شک بعض یہ بھی کہتے کہ ہمیں یقین نہیں آتا یہ باتیں درست ہوں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے جب قادیان میں رہنے والے بیان کرتے ہیں تو کچھ نہ کچھ ہو گا ہی اور بعض تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ یہ الزام درست ہیں۔میں نے اس پر بھی صبر کیا اور خاموش رہا۔آخر ان لوگوں نے اخبارات میں اس قسم کی باتیں لکھنی اور لکھائی شروع کر دیں جن سے انتہائی درجہ کا بغض اور عناد ظاہر ہو تا تھا۔یہاں تک کہ ۱۷ جون کے جلسہ کے متعلق جو کچھ انہوں نے کیا وہ نہایت ہی قابل شرم تھا۔اس پر آج اگر یہ لوگ شرم محسوس نہیں کریں گے تو ان کی نسلیں محسوس کریں گی۔تب مجھے اعلان کرنا پڑا کہ ان لوگوں نے چونکہ معاہدہ توڑ دیا ہے اس لئے قرآن کریم کے حکم کے مطابق ہم بھی اعلان کرتے ہیں کہ ہم اس معاہدہ کے پابند نہیں ہیں۔ہمارے اخبارات ابھی خاموش ہی تھے کہ ان کے اخبار نے شور مچانا شروع کر دیا کہ شروع سے ہی انہوں نے معاہدہ کی پابندی نہیں کی۔اور ایسے ایسے فقرے جو کوئی شریف انسان چوہڑے چمار کے لئے بھی استعمال نہیں کرتا انہوں نے ہمارے متعلق استعمال کئے۔جب انہوں نے ایسی باتیں لکھنی شروع کیں تو ہمارے اخبارات نے بھی جواب کی طرف توجہ کی۔اس پر معاً انہیں معلوم ہو گیا کہ حملہ کرنا خواہ کتنا ہی شیریں اور خوش کن ہو لیکن حملہ برداشت کرنا آسان نہیں ہے۔حملہ برداشت کرنے کے لئے بڑی ہمت کی ضرورت ہوتی اور بڑی اولوالعزمی کا کام ہوتا ہے۔میں ہر ایک سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں اگر کوئی پبلک کمیشن فیصلہ کر دے کہ میں نے