خطبات محمود (جلد 11) — Page 488
خطبات محمود ۴۸۸ سال ۱۹۲۸ء بد اثرات سے آگاہ کریں اور اپنے مخالفین کو بھی دلائل سے قائل کر کے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں۔وہ جلسے کریں ریزولیوشن پاس کریں اور ان کی نقلیں گورنمنٹ اور مسلم انجمنوں کو بھیجیں۔مسلم لیگ بے شک ایک اہم سیاسی مجلس ہے اس کا احترام ہونا چاہئے لیکن اسے یہ حق کہاں سے حاصل ہو گیا کہ برادران یوسف کی طرح اپنے بھائیوں کو جس طرح چاہے فروخت کرتی پھرے۔وہ یہ دعوی کسی صورت میں بھی نہیں کر سکتے کہ آٹھ کروڑ مسلمان اس کے غلام ہیں اور انھیں جہاں چاہے اور جس طرح چاہے دوسروں کے ہاتھ بیچ دے۔میں جماعت کے دوستوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس رپورٹ کے خلاف جلسے کریں اور ریزولیوشن پاس کر کے ان کی نقول لاہور اور کلکتہ کی مسلم لیگز ، مقامی گورنمنٹ ، گورنمنٹ ہند سائمن کمیشن ، تمام سیاسی انجمنوں اور پریس کو بھیجیں اور گورنمنٹ کو آگاہ کر دیا جائے کہ اگر ان تجاویز پر عمل کرایا گیا تو مسلمان یہی سمجھیں گے کہ ان کے حقوق کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔اور یہ تحریک اس وقت تک جاری رہنی چاہئے جب تک ان باتوں کا فیصلہ نہ ہو جائے۔میں نے اس کے متعلق ایک مضمون بھی لکھنا شروع کیا ہے جس کی ایک قسط "الفضل" میں شائع ہو چکی ہے اور دوسری بھی ایک دو دن تک شائع ہو جائے گی۔چونکہ یہ رپورٹ انگریزی میں ہے اور ہر کوئی اسے پڑھ کر سمجھ نہیں سکتا اس لئے میں نے اس مضمون میں اس کا خلاصہ اور وہ حصہ جو اسلام سے تعلق رکھتا ہے نکال کر بتایا ہے کہ مسلم مطالبات کیا ہیں ؟ کس وجہ سے ہیں؟ اور وہ جائز کس طرح ہیں؟ میرا منشاء ہے کہ بعد میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کر دیا جائے۔اسے مطالعہ کرنے سے ہر مسلمان بغیر اس رپورٹ کو پڑھے موجودہ سیاسی حالات سے واقفیت حاصل کر کے اپنی رائے درست کر سکتا ہے بلکہ دوسروں کی رائے کو بھی درست کرنے کی اہلیت اس میں پیدا ہو سکتی ہے اس لئے دوستوں کو اس کی اشاعت میں بھی سرگرمی سے حصہ لینا چاہئے۔اس مضمون کو خود پڑھنا اور یاد کرنا اور دوسروں کو پڑھانا اور یاد کرانا چاہئے۔میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح ہماری جماعت راجپال کیس کے وقت تمام مخالفتوں کو اپنے آگے بہاتی ہوئی نکل گئی تھی اسی طرح اگر اس وقت بھی کوشش کر کے وہ کامیاب ہو گئی تو یہ بھی یقینا خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہوگا۔اگر آج کچھ لوگ ہماری خالفت کریں گے تو یقینا وہ کل اقرار کریں گے کہ ہم نے ان کو ایسا