خطبات محمود (جلد 11) — Page 489
خطبات محمود ۴۸۹ سال ۱۹۲۸ء قدم اٹھانے سے بچا لیا جس کے بعد ہندو مسلمانوں میں کبھی اتحاد نہ ہو سکتا اور مسلمانوں کو تباہی اور بربادی سے بچالیا اور دونوں اقوام کے عقلمند لوگ ہماری تعریف کریں گے۔اس رپورٹ کی مخالفت کے لئے مسلمانوں میں اور بھی تحریکیں زور و شور سے ہو رہی ہیں۔لاہور میں ایک انجمن تحفظ حقوق المسلمين قائم ہے۔بہت سے لیڈر بھی مقابلہ کر رہے ہیں لیکن چونکہ ان میں کوئی نظام نہیں اس لئے ان کی کوششیں اسی جگہ تک محدود رہتی ہیں جہاں وہ خود ہوتے ہیں دوسری جگہ کے لوگوں پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا نظام ہے اس لئے ایک جگہ سے جو آواز اٹھتی ہے وہی پشاور سے لے کر آسام تک اور منصوری سے لے کر راس کماری تک ہر جگہ سے بلند ہوتی ہے اور سارے ملک میں شور بپا ہو جاتا ہے۔ایسا نظام اگر انسان خود پیدا کرنے کی کوشش کریں تو سینکڑوں سالوں میں بھی نہیں کر سکتے لیکن اللہ تعالٰی نے مامور بھیج کر ہم پر احسان کیا کہ ایسا زبر دست نظام منٹوں میں پیدا کر دیا۔اور جو کام کروڑوں مسلمان سالہا سال میں نہیں کر سکتے تھے وہ خدا کے فضل سے ہم نے کئے ہیں۔ہمارا نہ ہی کام ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور خدا نے ہمیں وہ کام کرنے کی توفیق دی ہے جس کا ۱/۱۰۰ حصہ بھی باقی تمام مسلمان نہیں کر سکے۔قلیل التعداد سے اتنا کام لینا یہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے اسی طرح ہم خدا کے فضل سے دنیاوی معاملات میں بھی بہت بڑا کام کر سکتے ہیں۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس نظام کو کام میں لا کر تحریک کریں تاکہ اس رپورٹ کے بداثرات سے مسلمانوں اور گورنمنٹ کو متنبہ کیا جا سکے۔گورنمنٹ نے چونکہ وعدہ کیا ہوا ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کو ان کی مرضی کے خلاف ضائع نہیں ہونے دے گی اور اس رپورٹ سے چونکہ مسلمانوں کا سراسر نقصان ہے اس لئے وہ ضرور توجہ کرے گی۔میں امید کرتا ہوں کہ دوست جلد سے جلد اس کام کو شروع کر دیں گے اور دوسرے لوگوں سے مل کر کمیٹیاں بنائیں گے اور جلسے کر کے ایسے والنٹیر تیار کریں گے جو ان دلائل کو جو اس کی مخالفت اور مسلمانوں کے مطالبات کی تائید میں ہیں سمجھ کر ہر جگہ اور ہر مقام بلکہ ہر مجلس میں اٹھتے بیٹھتے انھیں پیش کریں گے حتی کہ ہر مسلمان ان سے آگاہ ہو جائے اور ان پر عمل کرے۔پس اشتہاروں جلسوں الفضل کے مضامین اور پھر کتاب شائع ہو جانے کے بعد اس کے ذریعہ ایسے وانٹیر تیار کر کے کمیٹیاں بنا کر جلسے کر کے اور ریزولیوشنوں کے ذریعہ سے۔