خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 42

خطبات محمود سال 1927ء مطابق ہیں ؟ دن رات یہ دعا پڑھی جاتی ہے۔اور نہیں تو کم از کم پانچ نمازوں میں تو ضرور پڑھی جاتی۔ہے۔پس آپ لوگ اپنے نفسوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا جو ہم روز کرتے ہیں۔کیا وہ قبول ہو رہی ہے یا نہیں۔کیا جو شئے ہم اس میں طلب کرتے ہیں۔وہ ہمیں مل رہی ہے ؟ اور کیا ہماری حالت اس دعا کے مفہوم کے مطابق ہو گئی ہے ؟ اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں ہم طلب کرتے ہیں۔سیدھا رستہ دکھا۔وہ رستہ جو دکھایا تو نے اپنے نیک اور مومن بندوں کو جو تیرا انعام پانے والے ہوئے۔بہر حال ہر مسلمان یہ دعا کئی بار دن میں پڑھتا ہے اور جو اسے پڑھتا ہے وہ اس پر ایمان بھی رکھتا ہو گا۔وہ آخر خدا پر ایمان رکھتا ہو گا۔تو حید پر ایمان رکھتا ہو گا۔ملائکہ پر ایمان رکھتا ہو گا۔قرآن پر ایمان رکھتا ہو گا۔رسالت پر ایمان رکھتا ہو گا۔حشر و نشر اور قضاء و قدر کو مانتا ہوگا۔پس جب وہ اهدِنَا الصِّرَاطَ المُستقِيمَ صِرَاطَ اللَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم کہتا ہے۔تو کیا اس کے یہ معنی ہوتے ہیں۔کہ اے خدا میرا یہ ایمان ہو جائے کہ تو خدا ہے۔اور تیری توحید ہے ملائکہ تیری مخلوق ہیں۔قرآن تیرا کلام ہے۔حشر و نشر اور قضاء و قدر تیرے حکم اور اختیار سے ہے۔یہ تو وہ پہلے ہی مانتا ہے۔اور ان سب پر اس کا پہلے ہی ایمان ہے۔پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ وه KONKONG DOWNLOAD NEW AT A کہتا ہے۔اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اے میرے خدا جس مقام پر میں ہوں تو مجھے اس سے آگے لے جا۔کیونکہ اگر صرف یہ ہو کہ مجھے یہ باتیں حاصل ہوں۔تو یہ تو اسے پہلے حاصل ہیں۔اور کون ہے جو پہلی حاصل شدہ چیزوں کو مانگے۔پس اس کا یہی مطلب ہے کہ دعا مانگنے والا یہ مانگ رہا ہے کہ جس مقام پر ہوں اس سے آگے ترقی دے۔جو عقائد ہیں انہیں زیادہ مضبوط کر دے۔ایمان اور یقین کو زیادہ کر دے۔قرآن پر جو ایمان ہے۔رسول پر جو ایمان ہے۔ملائکہ پر جو ایمان ہے۔اس میں ترقی ہو جو علم حاصل ہے وہ اس سے زیادہ ہو جائے۔قرآن اور حدیث کے مطالب پہلے سے زیادہ مجھ پر کھل جائیں۔غرض جس وقت یہ دعا مانگی جاتی ہے۔تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ دعا مانگنے والا موجودہ حالت سے آگے ترقی چاہتا ہے۔اور یہ خواہش کرتا ہے کہ جو کچھ مل چکا ہے۔وہ اور بھی زیادہ ہو۔مثلاً کوئی شخص اعمال کے متعلق دعا کرے۔جیسے نماز - روزه - ج - زکوة - اور عام اخلاق تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں یہ دعا کر رہا ہے۔وہ مسلمان ہے۔اور مسلمان کو یہ سب چیزیں پہلے ہی مل چکی ہیں تو اس کا یہی مطلب ہے کہ یہ پہلے سے اچھے طریق پر ادا ہوں۔اور اچھی طرح مجھے حاصل ہوں۔اگر یہ مفہوم نہیں تو پھر یہ فضول اور لغو بات ہے۔کیونکہ وہ ایک ایسی چیز مانگتا ہے۔