خطبات محمود (جلد 11) — Page 43
خطبات سال 1927ء جو اسے پہلے ہی مل چکی ہے۔پس پانچ وقت جو یہ دعا مانگی جاتی ہے۔اس کے متعلق دیکھنا بھی چاہئے۔کہ قبول ہو رہی ہے یا نہیں۔اور کیا اس سے کوئی تبدیلی پیدا ہو رہی ہے یا نہیں۔ایک نماز میں جب یہ دعا کی گئی ہے تو کیا یہ فرض نہیں کہ دوسری نماز میں دیکھا جائے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلا۔اور کہاں تک ترقی ہوئی۔مثلاً اگر صبح کی نماز میں ایک شخص KANGOUT AL AAN LANA کہتا ہے اور مفہوم میں یہ بات داخل رکھتا ہے۔کہ جو کچھ مجھے مل چکا ہے۔اس میں ترقی ہو۔تو کیا یہ فرض نہیں کہ وہ بعد کی نماز میں غور کرے کہ کہاں تک ترقی ہوئی۔وہ اپنے اعمال میں دیکھے۔اپنے معاملات میں دیکھے۔اپنے حالات میں دیکھے۔کہ کسی قدر بہتری پہلے کی نسبت ان میں پیدا ہوئی۔اور یہ کہ کیا ان میں کوئی تبدیلی ہوئی یا نہیں۔ان میں کچھ فرق ہوا یا نہیں۔اگر نہیں تو اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ صرف مقررہ الفاظ دہرا رہا ہے۔وہ ٹو نہ کر رہا ہے۔وہ جادو کر رہا ہے۔وہ بالکل ویسے ہی طور پر کام کر رہا ہے جیسے بعض بوڑھی عورتیں چند دھاگوں پر عمل کرتی ہیں۔پس جب تک اس دعا کا مفہوم یہ نہ ہو نا کہ جو کچھ مل چکا ہے اس میں ترقی ہو تو اس دعا کا پڑھنا ایک فضول اور لغو بات ہو گی۔اس لئے ہر ایک شخص کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ ہر نماز میں سوچ لے کہ میری پہلی دعا کا کیا نتیجہ نکلا۔پھر اس کے ساتھ اسے یقین ہونا چاہئے کہ میری دعا قبول ہو گئی۔کیونکہ اگر یہ یقین نہ کیا جائے اور یہ مانا جائے کہ جو کچھ ہونا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف سے ہو تا رہتا ہے۔انسان کے کہنے سے اس میں تغیر نہیں ہوا کرتا۔تو اس کے یہ معنی ہونگے کہ ہزار ہا دعا ئیں جو پاک لوگوں نے کیں وہ پھینک دی گئیں۔ہزار ہا دعا ئیں جو راستباز انسانوں نے مانگیں اجابت کے مقام پر نہ پہنچیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ جو کچھ کرتا ہے خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے۔لیکن اس میں بھی کچھ شبہ نہیں کہ انسان جو کچھ کہے اسے بھی سنتا ہے اور اسکے مطابق اسے اجر دیتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ کسی کی دعا میں کوئی نقص ہو۔اور وہ پھینکی گئی ہو۔اور اجابت کے مقام پر نہ پہنچی ہو۔لیکن یہ بات بالکل درست ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کی دعائیں سنتا ہے۔اور پھر جو دعا وہ خود سکھائے وہ تو ضرور اس قابل ہوتی ہے کہ سنی جائے۔لیکن ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ انسان اس کے مانگنے میں اپنی نادانی اور غلطی سے کوئی نقص نہ پیدا کر دے لیکن باوجود اس بات کے کہ یہ دعا خود خدا تعالٰی نے سکھائی۔اگر یہ دعا اپنا اثر ظاہر نہ کرے اور مانگنے والے کے اندر پہلے کی نسبت کوئی فرق پیدا نہ ہو۔اور اسے ان چیزوں میں جو اسے مل چکی ہیں۔ترقی محسوس نہ ہو تو اسے فکر کرنی