خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 471

خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء ہم میں سے بہتوں کی زندگیوں میں ایسا ہوا۔وہ اس وقت ہوش میں تھے اور ابھی تک زندہ ہیں جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نور پیدا کیا گیا۔ایک شخص کو خدا تعالٰی نے عزت دی اور جیسا کہ اس کا قاعدہ ہے ابتداء میں عزت اس پیج کی طرح ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔وہ ایک چنگاری کی طرح ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ دوسروں کو بھی اپنے رنگ میں رنگین کر لیتی ہے۔پس خدا تعالٰی نے اس نور کو پیدا کیا اور وہ بڑھنے لگا اور ایسی حالت میں پہنچ گیا کہ وہ جو الوؤں اور چندوں کی آنکھوں والے ہوتے تھے ان کی آنکھیں اسے برداشت نہ کر سکیں وہ چند بیانے لگیں۔اور جس طرح بیمار کی آنکھوں کو روشنی اچھی نہیں لگتی اور جہاں اور لوگ روشنی کے لئے بے تاب ہوتے ہیں وہ اندھیرا چاہتا ہے اسی طرح ان کی آنکھوں کو بھی وہ نور اچھا نہ لگا اور انہوں نے اپنی نادانی سے یہ خیال کر لیا کہ یہ چنگاری ہماری لگائی ہوئی تھی اور یہ شعاع ہم نے پیدا کی تھی ہم ہی اسے مٹادیں گے۔چنانچہ ان میں سے ایک شخص نے کہا میں نے ہی اسے بڑھایا تھا اور میں ہی اسے ذلیل کروں گا۔وہ نادان یہ نہ سمجھا کہ عزت اندر سے پیدا ہوتی ہے حقیقی عزت باہر سے نہیں آتی۔غیر حقیقی عزت باہر سے آتی ہے اور حقیقی و غیر حقیقی عزت میں بآسانی امتیاز بھی ہو سکتا ہے۔دیکھو دنیا کے بادشاہ ایک شخص کو خان بہادر بنا دیتے ہیں لیکن ان کے بنانے سے وہ نہ خان بنتا ہے اور نہ بہادر - اسی طرح وہ کسی کو رائے بہادر بنا دیتے ہیں مگر وہ نہ رائے بنتا ہے نہ بہادر - محلہ میں اگر ذرا سا بھی کھٹکا ہو تو اسے خش آنے لگتا ہے۔ذرا آواز آئی کہ ہندو مسلم فساد ہو گیا تو رائے بہادر صاحب فورا دھوتی سنبھالتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کے پاس بھاگے جاتے ہیں کہ میری حفاظت کیجئے کہاں گئی وہ بہادری؟ دراصل اسے بہادر چونکہ ان لوگوں نے بنایا تھا جن کے اختیار میں بہادر بنانا نہ تھا اس لئے وہ حقیقی بہادر نہ بنا بلکہ رائے بہادری کے بعد اور بھی بزدل ہو گیا کیونکہ پہلے تو وہ سمجھتا تھا اگر مجھے کسی نے کچھ کہہ دیا تو کوئی بات نہیں لیکن رائے بہادری کے بعد اس نے خیال کر لیا کسی کے کچھ کہنے سے میری ذلت ہوگی اس وجہ سے وہ اور بھی بزدل ہو گیا۔تو دنیا وی خطاب جتنے اونچے ہوں گے اتنے ہی زیادہ خطاب یافتہ بزدل ہوں گے لیکن جو خدا کے بنائے ہوئے بہادر ہوتے ہیں ان کی شان بالکل علیحدہ ہوتی ہے۔ان کی بڑائی چونکہ اندر سے آتی ہے اس لئے وہ کسی بڑی سے بڑی مصیبت سے بھی ہراساں نہیں ہوتے اور کسی کی شرارت سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔جس طرح ایک لالٹین جل رہی ہو تو شیشے کے اوپر ہاتھ پھیرنے سے وہ بجھ نہیں سکتی وہ جب ہی