خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 453

خطبات محمود ۴۵۳ سال ۶۱۹۲۸ اسی طرح تھوڑا ہی عرصہ ہوا کہ میں نے دیکھا۔ایک معزز غیر احمدی کا تار چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے نام کسی کام کے متعلق آیا ہے میں نے بعض دوستوں کو یہ خواب بتایا۔اس کے بعد چودھری صاحب کی چٹھی آئی جس میں اسی طرح کا تار آنے کا ذکر کرتے ہوئے ایک اہم کام جانے کا ذکر کیا تھا تو خدا کے فضل سے متواتر خوابیں آتی رہتی ہیں جو پوری ہوتی ہیں اسی طرح اور لوگوں کو بھی میری تائید میں آتی ہیں۔ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا کہ خان دلاور خان صاحب نے لکھا کہ انھوں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک غیر مذہب کے مقابلہ میں مجھے عظیم الشان کامیابی ہوئی ہے۔یہ خدا تعالٰی کی سنت ہے کہ کبھی مومن کو بچے خواب دکھاتا اور کبھی اس کے لئے دوسروں کو دکھاتا ہے۔اس پر اگر مولوی محمد علی صاحب نہیں اور تمسخر کرتے ہیں تو کریں ان کی مرضی۔میں خدا کے فضل سے ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ پر افتراء کرتے ہیں۔میں تو بہت سی ایسی خواہیں جو پوری ہو جاتی ہیں وہ بھی بیان نہیں کرتا۔مولوی صاحب نے اس بارے میں جو کچھ لکھا ہے۔میں اس میں ان کو معذور سمجھتا ہوں۔وہ اس امت کے انعامات پر بحث کرتے کرتے ایک طرف تو اس کے لئے خوابوں کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری طرف جسے کچی خواب آتے اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔گویا عملاً وہ پر بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ کسی کو خواب آئے۔مگر میں تو یہی دعا کرتا ہوں کہ انھیں خدا تعالٰی بچے خواب دکھائے اور اس طرح انہیں بتا دے کہ وہ غلطی پر ہیں تا جھگڑے کا فیصلہ ہو جائے خدا تعالٰی لَهُمُ البشری کی بشارت ان کے حق میں بھی پوری کرے تاکہ جھگڑ اسٹ جائے۔وہ مجھے مفتری کہتے ہیں لیکن میں ان کے لئے یہی کہتا ہوں خدا تعالیٰ ان کے لئے رستہ کھول دے تاکہ وہ ایسی راہ اختیار کریں کہ جھگڑ ا فساد مٹ جائے۔بالآخر میں پھر کہتا ہوں میں اس جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لئے ان کا چیلنج قبول کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ جس سپرٹ میں میں نے اس بات کو بیان کیا ہے اسی سپرٹ میں وہ اسے قبول کرلیں گے۔الفضل ۱۸ ستمبر ۱۹۲۸ء)