خطبات محمود (جلد 11) — Page 452
خطبات محمود ۴۵۲ سال ۱۹۳۸ فساد رونما ہوا قاضی صاحب خان عجب خاں صاحب غیر مبائع کے ساتھ مل کر جو غیر مبالعین کی امداد میں بہت حصہ لیتے رہے ہیں یہ کوشش کر رہے تھے کہ دونوں فریق اور زیادہ قریب ہو جائیں۔اس کے لئے انھوں نے ایک معاہدہ تجویز کیا اس کی شرائط بھی لکھیں۔اس کے متعلق میں خان عجب خان صاحب سے کہوں گا کہ وہ شہادت دیں کہ ایسا ہوا یا نہیں۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ قاضی صاحب اتحاد کے خلاف کوشش کرتے رہے ہیں یا اور اتحاد قائم کرنے کی۔اب میں مولوی صاحب کے چیلنج کو قبول کرتا ہوا اعلان کرتا ہوں کہ وہ ان دونوں بورڈوں میں سے کوئی سامنظور کرلیں اور پھر جو فیصلہ ہو اس کی پابندی کی جائے۔اگر میری طرف سے زیادتی ثابت ہو تو میں معافی مانگ لوں گا اور اگر میری طرف سے کسی اور کی زیادتی ثابت ہو تو دہ معافی مانگے گا۔اسی طرح مولوی صاحب اپنے اور اپنے ساتھیوں کے متعلق اعلان کریں ان کے نقطہ نگاہ سے میرے لئے معافی مانگنا تو بہت مشکل بات ہے کیونکہ میں ان کے نزدیک پیر پرستی قائم کرنے والا ہوں اور وہ چونکہ پیر پرستی کو دور کرنے والے ہیں اس لئے ان کے لئے معافی مانگنا آسان ہے۔پھر اس تجویز کو قبول کرنے میں انھیں کیا عذر ہو سکتا ہے۔مولوی صاحب نے اپنے مضمون میں میری خوابوں کی تضحیک کی اور تمسخر کیا ہے مگر ان کو قرآن کریم کا وہ قول یاد کر لینا چاہئے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر یہ جھوٹا ہے تو جھوٹ اس پر آپڑے گا اور اگر سچا ہے تو تمہیں فکر کرنی چاہئے کہ تم پر وبال نہ آ پڑے۔اگر میں نے خوا ہیں خود بنا کر بیان کیں ہیں تو مولوی صاحب کو خوش ہونا چاہئے کہ ان کا راستہ صاف ہونے لگا ہے اور اگر خواہیں بچی ہیں تو ان کی تضحیک کرنے سے ان کو ڈرنا چاہئے۔بچے خواب کی تضحیک گو وہ نبی کا نہ ہو کچھ نہ کچھ خدا کی ناراضگی کا باعث ضرور ہوتی ہے۔باقی یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ مجھے بیسیوں خواب آتے ہیں جو پورے ہو جاتے ہیں۔آج ہی ایک خواب پورا ہوا ہے۔بے شک مولوی صاحب اس پر بھی ہنسی اڑالیں۔میرے لڑکے ناصر احمد نے اس سال مولوی فاضل کا امتحان دیا تھا۔دو پرچے وہ دے چکا تھا اور تیسرا ابھی نہ دیا تھا کہ میں نے دیکھا وہ قادیان آگیا ہے اور کہتا ہے پرچہ خراب ہوا ہے۔میں نے کہا تمہارے رانے کے سبب سے ایسا ہوا تمہیں امتحان پورا دینا چاہئے۔اس خواب میں بتایا گیا تھا کہ خدا کے نزدیک وہ دوسرے پرچہ پر ہی واپس آچکا ہے۔آج اطلاع پہنچی ہے کہ وہ دوسرے پرچہ میں ہی فیل ہوا ہے۔اور یہ وہ پرچہ تھا جس کے متعلق اسے اطمینان تھا کہ اچھی طرح ہو گیا ہے۔