خطبات محمود (جلد 11) — Page 433
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء کیسی محبت کی اور کتنی درد کی تعلیم ہے۔محبت ہے تو ایسی کہ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کہنے کے بغیر کوئی کام ہی نہیں کیا جاتا۔یہ کمال محبت ہے کہ کسی چیز کو چھونا بھی نہیں چاہتا جب تک خدا کا نام نہ لے لے جیسے ماں ہر چیز کھانے کے وقت بچہ کو یاد کر لیتی ہے اسی طرح مؤمن ہر کام کرنے کے وقت خدا کو یاد کرتا ہے۔پھر اس محبت سے وہ سوز اور گداز پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے بالکل بے جان کی طرح خدا تعالیٰ کے سامنے ڈال کر کہتا ہے جو کچھ کرنا ہے تو نے ہی کرنا ہے۔- یہ وہ تعلیم ہے جو رسول کریم ﷺ نے پیش کی اسے کون غلط کہہ سکتا ہے۔مذہب کی غرض خدا تعالٰی سے ملنا ہے اور جو خدا تعالی کی طرف چل پڑے وہ غلط رستہ پر کہاں جا سکتا ہے۔تو ادعوا الى اللہ میں یہ بتایا کہ مذہب کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہے انسان کو چاہئے کہ اس میں زندگی بسر کرے۔یہ بہت اعلیٰ طریق ہے مگر اس میں ایک کمی رہ جاتی ہے اس کی طرف آیت کے اگلے حصہ میں توجہ دلائی گئی ہے۔محبت بے شک اچھی چیز ہے مگر یہ ایسی چیز ہے کہ اس میں ٹھو کر بھی لگ سکتی ہے۔بہت لوگ محبت کی وجہ سے حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔پس خالی محبت مفید نہیں ہو سکتی محبت اور حقیقت مل کر کام آتی ہے۔مثلاً اگر کسی کا بچہ پہاڑ پر سے گر پڑے تو بجائے اس کے کہ سوچ کر نیچے اترے۔اگر وہ محض محبت کے جوش میں پہاڑ سے کود پڑے گا تو ہو سکتا ہے کہ بچہ تو صحیح سلامت نیچے کھڑا ہو اور وہ مرجائے تو فرمایا: ادْعُوا الی اللہ میں خدا سے محبت کرتا ہوں اور اس کی طرف بلاتا ہوں مگر میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کہتے ہیں بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے اسے مان لو بلکہ میں یہ کہتا ہوں عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِي میں اور میرے پیچھے چلنے والے ایسے ہیں کہ انتہاء درجہ کی محبت میں بھی ان کی عقلیں نہیں ماری جاتیں بلکہ قائم رہتی ہیں کیونکہ میری تعلیم کی بنیاد عقل اور دلیل پر قائم ہے۔نیک نیست بے شک قابل قدر چیز ہے لیکن جب عقل کے خلاف ہو تو نقصان پہنچاتی ہے۔اگر ایک شخص زہر کو تریاق سمجھ کر کھالے تو وہ اپنی نیت کے اچھے ہونے کی وجہ سے بچ نہیں سکے گا یا لوگ کہتے تیار کرتے ہیں اگر کوئی زہر کا کشتہ کسی کے لئے بڑی محبت اور اخلاص سے تیار کرے مگر وہ زہر کا اثر زائل کرنا نہ جانتا ہو تو اس کی محبت اور نیک نیتی کی وجہ سے وہ کشتہ کے زہر سے بچ نہیں سکے گا کیونکہ وہ عقل کے ماتحت تیار نہ ہوا ہو گا۔تو ادعوا إلی اللہ میں بتایا کہ اسلام کی بنیاد محبت پر ہے مگر ساتھ ہی اسلام عقل کو بھی