خطبات محمود (جلد 11) — Page 434
خطبات محمود ۴۳۴ سال ۱۹۳۸ء نہیں چھوڑتا اس لئے میں بھی عقل پر قائم ہوں اور میرے متبع بھی۔پھر فرمایا - وسُبُحْنَ اللهِ وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔یہ پہلی دونوں باتوں کی دلیلیں دیں۔قرآن کریم کا قاعدہ ہے کہ بات کے آخر میں ایک یا دو لفظوں میں خلاصہ بیان کر دیتا ہے۔یہاں دو دعوے پیش کئے گئے تھے اور خاتمہ پر دو لفظوں میں ان کا ثبوت بیان کر دیا - هذه سبيلی ادْعُوا الی اللہ کے متعلق سُبحن الله فرمایا کہ اللہ ہر قسم کے عیوب سے پاک ہے اور کامل زات ہے۔ادعوا الی اللہ میں بتایا تھا کہ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں۔اس پر سوال ہو سکتا تھا کہ کیوں خدا کی طرف جائیں اس میں کیا فائدہ ہے۔اس کے متعلق فرمایا۔سُبحن الله وه ذات کامل اور پاک ذات ہے اگر تم کامل بننا چاہتے ہو تو کامل ذات کی طرف آؤ۔یہ فطرتی تقاضا ہے کہ جو کام کیا جائے اس کا کوئی مقصد ہونا چاہئے اور خدا کی طرف جانے کا مقصد یہی ہے کہ کمال حاصل ہو اور یہ خدا ہی سے حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی کامل نہیں ہے۔اس لئے بتایا۔سُبحن الله الله تمام عیوب سے پاک اور تمام خوبیوں کا جامع ہے اور وہی کامل ہے اس لئے اس کی طرف جانے سے کمال حاصل ہو سکتا ہے۔دوسری بات جو یہ کبھی تھی کہ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِ اس کے متعلق فرمایا- وَمَا انَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ دلائل پر قائم ہونے کا ایک نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ادھر ادھر نہیں مارا مارا پھرتا اس کے سامنے ایک گول اور مقصد ہوتا ہے تمہاری بھی یہی حالت ہو جائے گی۔مشرک کون ہوتا ہے وہ کہ جو چیز دیکھتا ہے اسے اپنا معبود بنا لیتا ہے۔اگر پہاڑ دیکھا تو اس کے آگے جھک گیا، دریا دیکھا تو اسے پوجنے لگ گیا کوئی درندہ ملا تو اسے معبود بنا لیا گویا وہ ایک آوارہ گرد کی طرح ہوتا ہے یہ نہیں جانتا کہ خدا کس طرف جانے سے مل سکتا ہے۔مگر مؤمن اس طرح نہیں کرتا اس کے سامنے ایک کامل اور واحد ذات ہوتی ہے اور وہ اس کے پانے کے لئے کوشش کرتا ہے۔پس مومن اور مشرک میں فرق یہ ہے کہ مومن کی مثال اس معالج کی طرح ہوتی ہے جو سائنٹیفک طریق پر علاج کرتا ہے جو مرض دیکھتا ہے اور اس کے مطابق دوا دیتا ہے۔مگر مشرک پرانے زمانہ کی اس بڑھیا کی طرح ہوتا ہے جسے جو شخص کوئی علاج بتائے وہی کرنے لگی جاتی ہے۔غرض مشرک ہمیشہ بصیرت کے خلاف چلتا ہے وہ اپنے اعمال کی بنیاد عقل پر نہیں رکھتا اس لئے کبھی کسی طرف اور کبھی کسی طرف نکل جاتا ہے۔دیکھو وہ لوگ جو ڈلہوزی پہنچنے کا رستہ جانتے ہوں وہ تو چلتے چلتے ڈلہوزی پہنچ جائیں گے مگر جو رستہ نہیں جانتے ان میں سے کوئی کہیں