خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 421

خطبات محمود ۴۲۱ سال ۱۹۲۸ء - کا کیا اثر پڑتا ہے۔اگر اکثر کے لئے مضر ثابت ہوتی ہے تو اس کی ممانعت کی بنیاد کثرت پر رکھیں گے اور کثیر کو بچانے کے لئے بعض کو کہیں گے کہ تم بھی اپنی آزادی قربان کر دو تاکہ ساری قوم تباہ نہ ہو۔تیسرا نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمدن کا قیام اسی مسئلہ پر ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ أثم۔بعض ظن ایسے ہوتے ہیں جو تعلقات کو خراب کر دیتے ہیں فتنہ و فساد مچا دیتے ہیں ان سے بچنا چاہئے۔یہ تمدن کے قیام کا بہت بڑا گر ہے جو مسلمانوں میں مفقود ہو گیا ہے۔وہ یقین کے مقابلہ میں شک کو ترجیح دیتے ہیں حالانکہ اسلام کا حکم یہ ہے کہ شکوک کے پیچھے نہ پڑو۔اگر تم کسی ایک کے لئے شکوک کا دروازہ کھولو گے تو پھر سب کے لئے کھل جائے گا اور اس طرح تمدن تباہ ہو جائے گا۔کوئی وجہ نہیں کہ میں زید پر بدظنی کروں اور وہ مجھ پر نہ کرے۔اور پھر کوئی وجہ نہیں کہ زید کے معاملہ میں بدظنی کروں مگر دوسروں کے متعلق نہ کروں۔سورۃ نور میں خدا تعالیٰ نے اس برائی سے بچنے کے لئے اور رنگ میں ارشاد فرمایا ہے۔فرماتا ہے۔لولا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالمُومِنتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَ قَالُوا هذا افك مبين ) ( النور : ۱۳) جب تم نے فلاں بات سنی تھی تو مومن مرد اور عورتوں نے اپنے متعلق کیوں نیک گمان نہ کیا حالانکہ جنہوں نے وہ بات سنی تھی اپنے متعلق نہ سنی تھی بلکہ حضرت عائشہ کے متعلق سنی تھی مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے اپنے متعلق انہوں نے کیوں نہ نیک ظن کیا۔اس پر وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم نے اپنے متعلق تو کوئی براظن نہیں کیا ہم نے تو عائشہ کے متعلق کیا۔مگر اس طرح ان کو یہ بتایا گیا ہے کہ کیا حضرت عائشہ کے متعلق تم ایسا ظن کرو اور تمہارے متعلق نہ کیا جائے۔جب تم اپنے میں سے ایک پر بد ظنی کرتے ہو تو سب کے لئے رستہ کھولتے ہو اور یہ رستہ کھل جائے تو پھر اتحاد کیوں کر ہو سکتا ہے۔پس یہ خیال کرنا کہ فلاں کے متعلق یہ بات ہے ہمارا اس سے کیا نقصان ہے غلط ہے۔جب ایک کے لئے یہ راستہ کھول دیا گیا تو پھر سب کے لئے کھلے گا اور جب سب کے لئے کھلے گا تو اس طرح قوم تباہ ہو جائے گی۔وجہ یہ کہ انسان میں نقالی کی عادت پائی جاتی ہے اور بڑے بڑے ماہر کہتے ہیں ہر ڈانٹکٹ (Heard Instinct) انسان میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔یہ اصطلاح بھیٹر کی عادت سے ہی نکلی ہے۔جہاں سے بھیڑیں گذر رہی ہوں وہاں اگر ان کے راستہ میں رسی باندھ دی جائے اور ایک بھیڑ اس پر سے کود کر گذرے تو باقی سب بھیڑیں کود کر