خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 419

خطبات محمود ۴۱۹ سال ۱۹۲۸ء ہے لیکن انبیاء کی۔ان کی خوابوں کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ خدا کی طرف سے ہیں باقیوں کے لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یقینی طور پر ان کے خواب خدا کی طرف سے ہیں۔باقی لوگوں کی خوابوں کی علامات اور دوسری باتوں کو دیکھ کر راج یقین کر سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہوں مگران پر قسم نہیں کھا سکتے کہ ضرور خدا تعالی کی طرف سے ہیں اس لئے حضرت یوسف کے متعلق آتا ہے وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُ نَاجِ مِنْهُمَا (يوسف) (۴۳) جس کے متعلق انہیں غالب گمان تھا کہ بیچ جائے گا اسے کہا۔وہ خواب کی علامات سے سمجھتے تھے کہ بچ جائے گا لیکن چونکہ وہ نبی کی خواب نہ تھی اس لئے پورا یقین نہ تھا کہ ضرور بچی ہوگی۔دو اسی طرح ظن کا لفظ قرآن کریم میں شبہ کے معنوں میں بھی آتا ہے۔کفار کے متعلق آتا ہے وہ رسول کے لئے فنون کرتے ہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ان کے پاس رسول کے خلاف دلائل ہیں اس لئے وہ مخالفانہ باتیں کرتے ہیں بلکہ یہ ہیں کہ ان کے دلوں میں شکوک ہیں اور وہ شکوک پیش کرتے ہیں۔یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں ظن کے معنے یقین نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ ظن جس کے معنی یقینی امر کے ہوں اس کے لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالٰی نے کہا ہے اس سے بچو اور اسے چھوڑ دو۔ایسے ظن کو تو حاصل کرنا چاہئے۔اسی طرح جس امر کے متعلق دلائل کثرت سے ہوں اس کے لئے بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اسے چھوڑ دو۔بے شک بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک بات کے متعلق بظاہر دلائل کا غلبہ ہوتا ہے مگر وہ حقیقت میں غلط ہوتی ہے۔مگر ایسے امور تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔زیادہ ایسے ہوتے ہیں کہ دلائل کے غلبہ سے وہ بچے ہوتے ہیں۔پس یہ بھی یہاں مراد نہیں ہے۔اب یہ بات باقی رہ گئی کہ وہ ظن جو شک کے معنوں میں آتا ہے وہ یہاں مراد ہے۔ہماری زبان میں نطن کا لفظ غلط طور پر استعمال ہوتا ہے جب کسی بات کے متعلق غلطی کا احتمال کم ہو اور صحت کا زیادہ تو اس کے لئے ظن کا لفظ استعمال کرتے ہیں لیکن عربی میں ایسے موقع پر استعمال کرتے ہیں جہاں غلطی کا احتمال زیادہ ہو اور صحت کا کم توايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ کے یہ معنی ہوں گے کہ اے مومنو بہت سے شکوک سے بچا کرو۔کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے میں پہلو نیکی کے ہوتے ہیں اور ایک پہلو برائی کا۔اس برے پہلو کو چھوڑ دو۔کیوں ؟ اس لئے کہ نَ بَعْضَ الظَّنِّ اِثُمَّ بعض فنون ایسے ہوتے ہیں جو غلط ہوتے ہیں۔