خطبات محمود (جلد 11) — Page 418
خطبات محمود MIA سال ۱۹۲۸ء ہوئے اور ان کے حملہ سے بغداد کی خلافت تباہ ہو گئی 1 گویا دو آدمیوں کی لڑائی اور وہ بھی کباب کھانے کے لئے لڑائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عظیم الشان نظام جو خواہ کتنا ہی استبدادی رہا ہو پھر بھی مسلمانوں کے لئے عمود کے طور پر تھا اور دوسری مسلمان حکومتیں خواہ وہ کتنی بڑی تھیں اس کے آگے اس طرح جھکتی تھیں جس طرح جانور کیلئے کی طرف جھکتا ہے وہ تباہ ہو گیا۔اور ایسا تباہ ہوا کہ اس کے بعد پھر کوئی نظام مسلمانوں کو متحد نہ کر سکا۔پس بسا اوقات ایک چھوٹی سی بات کے نتائج بہت برے نکلتے ہیں۔اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بظا ہر جو باتیں صحیح معلوم ہوتی ہیں ان کو بھی بعض بڑی باتوں کے لئے چھوڑ دینا پڑتا ہے۔وہ گر جس کی طرف میں نے ابتداء میں اشارہ کیا ہے سورۃ حجرات میں بیان کیا گیا ہے۔خدا تعالی فرماتا ہے : لَيَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا جتَنِبُوا كَثِيراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِ اثْمُ (الحجرات) (۱۳) اے مومنو! اِجتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ کیونکہ اِنَّ بَعْضَ انَ ثُمَّ بعض ظن ایسے ہوتے ہیں جو گناہ ہوتے ہیں۔یہ کتنا چھوٹا سا فقرہ ہے لیکن اس میں ایک بہت بڑا تمدنی، سیاسی اور اخلاقی اصل بیان کیا گیا ہے۔بیشتر اس کے کہ میں اس اصل کو بیان کروں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ عربی میں ظن کے معنی تین ہیں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ تینوں معنی ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ایک معنی ظن کے یقین کے ہوتے ہیں۔جب کسی بات کے متعلق یقین کرلیں کہ اس طرح ہے تو کہتے ہیں فلاں نے فلاں بات کے متعلق ظن کیا۔دوسرے معنی ظن کے گمان غالب کے ہیں۔جب کثرت دلائل کسی بات کے متعلق دلالت کرتے ہوں کہ وہ یوں ہے تو اس کے لئے بھی ظن کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔قرآن کریم میں ان معنوں میں ظن کا لفظ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ مؤمنوں کے متعلق آیا ہے۔مومن خدا کی ملاقات پر ظن رکھتے ہیں (البقره (۲۵۰) مؤمنوں کے متعلق یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں خدا تعالیٰ کی ملاقات پر یقین نہیں ہو تا انہیں یقین ہوتا ہے۔ان کے متعلق ظن کا لفظ یقین کے معنوں میں استعمال کیا گیا۔گمان غالب کے معنوں میں حضرت یوسف کے متعلق آتا ہے۔ان کے سامنے جب دو قیدیوں نے اپنے خواب بیان کئے۔ان میں سے ایک نے کہا میں نے دیکھا ہے کہ شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا میں نے دیکھا ہے کہ میرے سر پر روٹیاں ہیں جنہیں پرند کھا رہے ہیں۔تو حضرت یوسف علیہ السلام نے شراب نچوڑنے والے کو تو یہ تعبیر بتائی کہ تمہیں قید سے نجات مل جائے گی اور دوسرے کو یہ کہا کہ تمہیں پھانسی دی جائے گی۔اب خواب یقینی تو ہوتی