خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 351

خطبات محمود ۳۵۱ سال ۱۹۲۸ء رہے ہیں کہ وہ ٹوٹ رہے ہیں مگر مسلمان سمجھتے ہیں وہ ٹوٹ چکے ہیں۔اسلامی سلطنتیں اسلام سے بیزاری کا اظہار کر رہی اور تمام حکومتیں مذہب سے علیحدہ ہو رہی ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اسلام سے منسوب ہونے کی وجہ سے ہی وہ مغلوب ہیں۔آج ہی میں نے اخبار میں یہ خبر دیکھی ہے کہ لڑکی کی پارلیمینٹ کے ۱۰۹ ممبروں نے جن میں عصمت پاشا اور دیگر تمام وزراء بھی شامل ہیں ایک تحریک پر دستخط کر دیئے ہیں جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین ترکی کی جن دفعات میں اسلام کو سلطنت ترکیہ کامذہب تسلیم کیا گیا ہے ان کو منسوخ کر دیا جائے۔تو مسلمان نہ صرف خود کمزور ہو چکے ہیں بلکہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ ان کی کمزوری کا باعث اسلام ہی ہے۔ہندو ہیں وہ منبروں پر شور مچاتے ہیں کہ یہ سوراج کا زمانہ ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ حکومت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔سٹیجوں پر کھڑے ہو کر یہ کہہ لینا آسان ہے کہ ہم مکہ پر ادم کا جھنڈا گاڑیں گے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس کے لئے وہ کر کیا رہے ہیں۔ہندؤوں کی تعداد ان کے مال و دولت اور ان کی عظمت کو اگر یہ نظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کے دعوے محض دعوئی ہیں ورنہ حقیقت میں وہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہیں۔تو سب مذاہب والے اس وقت کمزور ہو رہے ہیں۔کسی مذہب کے پیروؤں کے دل میں اپنے مذہب کی کوئی محبت نہیں۔بدھ مذہب ہے اس سے بھی لوگ بیزار ہو رہے اور اسے چھوڑ رہے ہیں۔اس وقت ایک ہی جماعت ایسی ہے جو کمزوری کے لحاظ سے دنیا میں سب سے گری ہوئی ہے مگر ارادہ کے لحاظ سے سب سے بڑھی ہوئی ہے۔پھر وہ منہ سے دعوئی ہی نہیں کرتی اس کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ دنیا کو کھا جاتا ہے کیونکہ اسکی بنیاد یہ ہے کہ ہم کو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق فرمایا ہے :- دنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا " سے یہ ہماری بنیاد ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری ابتداء ایک شخص ہے دنیا نے اس کا انکار کیا۔مگر کیا وہ ایک ایسا بیج ہے جو زمین میں بویا گیا اور وہ مٹی میں دب کر مٹ جائے گا اور وہ روئیدگی نہ پیدا کرے گا۔نہیں بلکہ خدا نے اسے قبول کیا اور پھر ایک قوم پر نہیں دو قوموں پر نہیں ایک ملک پر نہیں دو ملکوں پر نہیں بلکہ ساری دنیا پر اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔جس کا یہ