خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 350

خطبات محمود ۳۵۰ سال ۴۱۹۲۸ اور ان کو تباہ و برباد کر دے گا۔جس وقت دشمن یہ دعوی کر رہا تھا خندق کھودتے ہوئے ایک ایسا پتھر نکلا جسے صحابہ نے تو ڑنا چاہا مگر بار جود سخت کوشش کے وہ نہ ٹوٹا۔آخر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ ایک پتھر بہت سخت نکلا ہے جو ہم سے ٹوٹتا نہیں۔رسول کریم نے فرمایا چلو ہم توڑتے ہیں آپ ا نے کدال لے کر پتھر پر ماری۔پتھر سخت تھا اور جیسا کہ قاعدہ ہے کہ چوٹ پڑنے پر پتھر سے آگ نکلتی ہے آگ کا شعلہ نکلا۔رسول کریم ﷺ نے اسے دیکھ کر کہا اللہ اکبر۔صحابہ کو کچھ نہ سمجھے کہ کیا مراد ہے مگر چونکہ ہمیشہ رسول اللہ کا ادب ملحوظ رکھتے تھے بغیر دریافت کرنے کے انہوں نے بھی کہا اللہ اکبر۔رسول کریم ﷺ نے دوبارہ کدال ماری اور پھر اسی طرح آگ نکلی۔جسے دیکھ کر آپ نے دوبارہ اللہ اکبر کہا اور صحابہ نے بھی آپ " کی اتباع میں ایسا ہی کہا۔رسول کریم ﷺ نے سہ بارہ کدال ماری جس سے آگ نکلی۔آپ نے اللہ اکبر کہا صحابہ نے بھی یہ نعرہ لگایا۔اس ضرب سے پتھر ٹوٹ گیا۔ل کریم ﷺ نے صحابہ سے دریافت فرمایا تم نے کیوں اللہ اکبر کہا تھا۔انہوں نے عرض کیا آپ نے جو کہا تھا اس لئے ہم نے بھی کہا۔آپ نے کیوں کہا تھا آپ نے فرمایا جب پہلا شعلہ نکلا تو مجھے دکھایا گیا کہ قیصر کی حکومت پر تباہی آئی ہے اور مسلمانوں کو اس پر فتح حاصل ہوئی ہے۔دوسری دفعہ جب شعلہ نکلا تو اس میں مجھے کسری کی حکومت کی تباہی کا منظر دکھائی دیا اور تیسری مرتبہ غالبا غسان یا کسی اور قوم کے متعلق فرمایا۔س اس وقت مسلمانوں کی کیسی نازک حالت تھی۔چنانچہ منافقوں نے اس وقت کہا بھی کہ کھانے کو تو روٹی نہیں ملتی اور پاخانہ پھرنے کے لئے جگہ نہیں مگر خواب قیصر و کسرٹی کی حکومتوں کو فتح کرنے کے دیکھے جا رہے ہیں۔بعینہ یہی کیفیت اس وقت ہماری ہے۔ہماری جماعت ظاہری حالت کے لحاظ سے کمزور ترین نہیں بلکہ ایک ہی کمزور جماعت ہے۔دنیا میں کوئی ایک بھی منظم جماعت جو کام کر رہی ہو ہم سے کمزور نہیں ہے۔مگر باوجود اس کے کسی کے ارادے ایسے بلند اور ایسے وسیع نہیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی یہ امید نہیں رکھتی کہ وہ دنیا کے موجودہ نظام کو توڑ کر ایک نیا نظام جاری کرے گی سوائے ہماری جماعت کے عیسائی جو ساری دنیا پر حاوی ہیں محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی طاقت ٹوٹ رہی ہے۔ان کے عقل مند اس بات کو محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی طاقت کو کیڑا لگ چکا ہے جو گھن کی طرح اندر ہی اندر اس کو کھائے جا رہا ہے۔دوسری طاقت مسلمانوں کی ہے وہ بھی اس امر کو محسوس کر رہے ہیں کہ وہ بہت کمزور ہو چکے ہیں۔عیسائی تو یہ محسوس کر