خطبات محمود (جلد 11) — Page 334
خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ کے زمانہ میں بھی یہ اعتراض ہوتے تھے کہ کوئی امیر آتا ہے تو اسے اچھے کھانے دیئے جاتے ہیں اور غریب کو دال روٹی ہی ملتی ہے اور اس طرح آپ کے دربار میں بھی امتیاز رکھا جاتا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس اعتراض کو سن کر فرمایا کہ یہ فرق تو خدا کے گھر سے ہی قائم کیا گیا ہے ایک شخص جس کو اپنے گھر میں خدا تعالٰی پلاؤ کھانے کے لئے دیتا ہے اسے اگر ہم دال کھانے کو دیں تو یہ خدا تعالٰی کی سخت گستاخی ہو گی۔یہ غلط باتیں ہیں۔ہر ایک انسان کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔خدا تعالٰی کے فرق مٹائے نہیں جاسکتے۔اس طرح اعتراض ہونے لگیں تو پھر اگر کپڑا تقسیم ہو تو یہ اعتراض بھی ہو گا کہ فلاں شخص کا قد چھ فٹ ہے اس کو زیادہ کپڑا چلا گیا۔اور فلاں صرف چارفٹ کا ہے اسے کم ملا مگر یہ قدرتی فرق ہیں ان کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔ایک ذہین طالب علم سبق جلد یاد کر لیتا ہے مگر غیبی الذہن دیر میں یاد کرتا ہے۔ایک قوی اور توانا شخص فوج میں جلد ترقی کر کے عہدیدار بن جاتا ہے مگر ایک کمزور آدمی ساری عمر سپاہی ہی رہتا ہے۔تو یہ فرق خدا تعالی کی طرف سے ہوتے ہیں اور دنیا میں ہمیشہ رہیں گے ہاں دینی امور میں کوئی امتیاز اور فرق نہیں۔اگر کوئی امیر دیر سے مسجد میں آئے تو وہ ضرور پیچھے ہی بیٹھے گا۔اگر وہ کسی غریب کو پیچھے کر کے خود آگے بیٹھے تو ہم ضرور اسے پکڑیں گے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ کوئی دوست یا عزیز اس کے لئے اپنی جگہ چھوڑ دے یہ ناجائز نہیں۔مگر وہ زبر دستی جگہ آگے حاصل نہیں کر سکتا اسی طرح اور بھی بیسیوں باتیں ہیں جن میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکتا۔مثلاً قانونی اور شرعی حقوق میں کوئی امتیاز نہیں ہو سکتا۔غرض اس بات سے معلوم ہو سکتا ہے کہ صحابہ کے دلوں میں کیسا اخلاص تھا۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ کیوں دولتمند ہیں روپیہ یہ کیوں جمع کرتے ہیں بلکہ یہ شکوہ کیا کہ یہ دین میں ہم سے کیوں آگے بڑھ جاتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا تم ہر نماز کے بعد گیارہ گیارہ مرتبہ تسبیح اور تحمید اور بارہ مرتبہ تکبیر پڑھا کرو۔بعض حدیثوں میں ۳۳ ۳۳ دفعہ تسبیح و تحمید اور ۳۴ دفعہ تکبیر بھی آیا ہے اس طرح تم بھی ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو جاؤ گے ہیں آج کل کے کمزور ایمان والے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بہتر سلوک کیوں نہیں کیا جاتا۔ہمیں مال کیوں نہیں دیا جاتا مگر صحابہ یہ کہتے تھے امیر روپیہ دے کر ہم سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ہمیں کوئی ایسا طریق بتایا جائے کہ ہم ثواب حاصل کرنے میں ان سے پیچھے نہ