خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 319

خطبات محمود ۳۱۹ سال ۶۱۹۲۸ کر سکتا مگر اس سے ایک لطیف سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔اور ایسا سبق حاصل کیا جا سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق بصیرت بخشتا ہے اور اس سے بہت بڑا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔مثل یہ ہے کہ عقلمند سے عقلمند بھی تین جگہ پاگل ہو جاتا ہے۔(۱) بیوی سے محبت کرتے وقت۔(۲) بچے سے سے پیار کرتے وقت اور (۳) شیشے کے سامنے۔وہی عقل مند جو نہایت باریک اور علمی غلطیاں لوگوں کی نکالتا ہے۔علم ادب کی ادنیٰ سے ادنی غلطیوں پر ناراض ہو جاتا ہے۔کسی شاعر ادیب یا خطیب کے کلام اور شعر کو یا کسی مصنف کی تصنیف کو دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا۔اگر کتاب میں کوئی غلطی ہو تو اسے بند کر کے رکھ دیتا ہے کہ اسے پڑھ نہیں سکتا۔اگر شعر غلط ہو تو اسے سن نہیں سکتا۔اگر خطبہ فصیح نہ ہو اسے سنتے ہوئے اکتا جاتا ہے۔لیکن بچے سے گفتگو کرتے وقت وہ کہتا ہے یہ چیز " تیلی ہے " یہ میلی ہے"۔یعنی وہ بچہ کی تیلی اور میلی کی نقل کرتا ہے یہاں اس کی حالت بدل جاتی ہے۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے اس وقت وہ ادباء کی مجلس میں نہیں بیٹھا ہوا بلکہ بچہ سے باتیں کر رہا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ بچہ کا دل رکھنے کے لئے اس کی سی باتیں کروں۔اس وقت وہ یہ نہیں کرتا کہ اسی فلسفیانہ کرسی پر بیٹھا رہے جس پر وہ دن بھر بیٹھا رہتا ہے بلکہ اس سے نیچے اتر آتا ہے کیونکہ اگر وہ نیچے اتر کر اسی سطح پر نہ آجائے جس پر بچہ ہے تو بچہ اس کے پاس کبھی نہ آئے گا اور اس سے کبھی مانوس نہیں ہو سکتا۔وہ بچہ کے لئے نیچے کی طرف لوٹ آتا ہے تاکہ اس کو اپنی طرف کھینچ سکے۔اسی طرح خدا تعالٰی بھی اپنی شان کے مطابق اور انسانی جذبات کے مطابق جس سے اس کی صفات پر حرف نہیں آتا اپنے مقام سے نزول کرتا ہے۔کیونکہ وہ سب کا خدا ہے۔وہ صرف عقل مندوں اور فلسفیوں کا ہی خدا نہیں بلکہ جاہلوں اور کم عقلوں کا بھی خدا ہے اس لئے وہ سب کی حالت کو مد نظر رکھتا ہے۔اور انسانی فطرت کبھی ناز چاہتی ہے اور کبھی نیاز اس لئے خدا تعالی بھی کبھی ناز کی چادر اوڑھ لیتا ہے ناکہ بندہ اسے سمجھ سکے۔وہی خدا جو علیم و خبیر ہے اور انسان کی حاجات کو خوب جانتا ہے۔وہ جس نے رحمن ورحیم ہو کر پیدا ہونے سے بھی پہلے انسانوں کے لئے ضروریات رکھ دیں۔وہ چاہتا ہے کہ بندہ اس سے التجاء کرے اور وہ اس کی التجاء قبول کرے تاکہ اس کے اندر وہ جلن اور خلش پیدا ہو جس کے بغیر عشق مکمل نہیں ہو سکتا۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ خدا جب دیکھتا ہے تو خود میری ضروریات پوری کرے گا۔اس سے ناز تو ظاہر ہے مگر اس طرح محبت کے جذبات نہیں پیدا ہوتے۔یہ اسی طرح پیدا ہوتے ہیں کہ