خطبات محمود (جلد 11) — Page 297
سال ۱۹۲۸ء ۲۹۷ میں ہوں۔اگر صرف ہزار کی تعداد میں جلسے کرنے ہوں تو صرف دو ضلعوں گورداسپور اور سیالکوٹ میں کئے جاسکتے ہیں۔مگر فائدہ اور اثر تبھی ہو سکتا ہے جب ہزار بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں جلسے ہوں اور ہر زبان میں ہوں۔اسی طرح برہما میں بھی انتظام مشکل ہے۔کیونکہ وہاں کی زبان اور ہے اور جماعت کم ہے۔پس نہایت ضروری ہے کہ ہر علاقہ کی احمدی جماعتیں اس کے متعلق خاص کوشش کریں اور اپنے اپنے علاقہ میں مرکزی جماعتیں قائم کریں۔یہ کام جس کی تحریک کی گئی ہے کوئی معمولی کام نہیں بلکہ بہت بڑا ہے اور اس کے لئے بہت وقت اور بہت بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔کسی جگہ صرف جلسہ کر دینا کافی نہیں ہو گا۔ہر جگہ میلاد کے جلسے ہوتے ہیں مگر ان کا لوگوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور ان میں نئی زندگی نہیں پیدا ہوتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میلاد کی نوعیت اور ہے۔میلاد میں مسلمان محض ثواب کے لئے جمع ہو جاتے ہیں دوسرے مذاہب کے لوگ نہیں آتے۔مگر یہ جلسہ جس کی تحریک کی گئی ہے اس لئے ہے کہ دوسروں کو اس میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔پھر میلاد کی یہ غرض نہیں ہوتی کہ رسول کریم ﷺ کے وجود کو اس دنیا کے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے بلکہ یہ ہوتی ہے کہ بعض مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق مسلمانوں کو رسول کریم کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔مگر ہمارے ان جلسوں کی غرض یہ ہوگی کہ رسول کریم ﷺ کی ذات کو غیر مذاہب کے سامنے پیش کیا جائے اور ان کو بتایا جائے کہ ہمارے رسول کریم اعتراض کرنا فضول ہے۔یہ کونے کا پتھر ہے جو اس پر گرے وہ بھی چور چور ہو جاتا ہے اور جس پر یہ گرے وہ بھی چور چور ہو جاتا ہے۔ایک زمانہ وہ تھا جب کہ رسول کریم و زندہ تھے اس وقت آپ جس پر کرتے وہ چور چور ہو جاتا۔اب یہ زمانہ آیا کہ لوگ آپ پر گرتے ہیں اب ان کو یہ بتانا ہے کہ آپ چونکہ کونے کا پتھر ہیں اس لئے جو آپ پر گرے وہ بھی چور چور ہو جاتا ہے۔یہی نہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنی زندگی میں جس پر حملہ کرتے اس پر فتح پاتے بلکہ آپ کی وفات کے بعد بھی آپ پر جو حملہ کرے گا وہ بھی مغلوب ہی ہو گا۔اس کے لئے ہماری جماعت کو ایسی بار تند سخت بگولہ اور پر زور طوفان بنتا ہوگا جو ایک سرے سے دوسرے سرے تک لوگوں کو ہلا دے۔پس ان جلسوں اور میلاد کے جلسوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ایک سو سال کے میلاد بلکہ پانچ سو سال کے میلاد بلکہ ہزار سال کے میلاد بھی وہ کام نہیں کر سکتے جو یہ جلسے جو میرے مد نظر ہیں کر سکتے ہیں۔میلاد آقا اور غلام کے تعلقات ر ان کا