خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 298

خطبات محمود ۲۹۸ سال ۶۱۹۲۸ کا اقرار ہے اور وہ بھی علیحدگی میں مگر یہ جلسے اس اقرار کے لئے ہوں گے کہ ہمارا آقا ایسی چیز نہیں ہے کہ ہم اسے چھپا کر رکھیں۔ہم اسے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں آؤ اسے دیکھ لو اور اس کی خوبیوں کو پرکھ لو۔پس میلاد تو ایسی محبت کا اظہار ہے جو گھر میں بچہ سے کی جائے مگر یہ جلسے ایسا کھلا چیلنج ہے جیسے سپاہی میدان جنگ میں کھڑا ہو کر دیتا ہے اور کہتا ہے آؤ میں مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔مگر یہ چیلنج ایک مذہب کا دوسرے مذہب کو نہیں نہ اسلام کا دوسرے مذاہب کو ہے بلکہ یہ ایک مقدس ہستی کا دوسرے بنی نوع انسان کو ہے اس لئے ہم یہ چیلنج دینے والوں میں غیر مذاہب کے لوگوں کو بھی شامل کر سکتے ہیں بلکہ ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں کیونکہ اس طرح ہم دنیا کو یہ بتائیں گے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کا رسول ماننے والے ہی چیلنج نہیں دیتے بلکہ جو اس حد تک آپ کو نہیں مانتے جو ماننے کا حق ہے وہ بھی چیلنج دے رہے ہیں۔ایک تو ان جلسوں کا یہ مقصد ہے جو کسی اور جلسہ سے پورا نہیں ہو سکتا۔دوسرا مقصد ایک اور ہے جس میں مسلمانوں کا چیلنج دنیا کو ہے۔پہلی صورت میں رسول کریم کا چیلنج دنیا کی ہستیوں کو ہے اس میں اور لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ دنیا کے لوگوں کا اکثر حصہ شریر ہوتا ہے میرے نزدیک اکثر لوگ شریف ہیں اسی طرح میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیں ہندوؤں میں نے اکثر لوگ شریر ہیں بلکہ میں ان میں سے ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوؤں میں سے اکثر شریف ہیں۔اسی طرح میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیں عیسائیوں میں سے اکثر حصہ شریر ہے بلکہ ان میں سے ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ عیسائیوں کا اکثر حصہ شریف ہے۔مگر بات یہ ہے کہ شریفوں کا طبقہ دوسروں سے دیا ہوا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ان کی دبی ہوئی آواز کو بلند کریں۔ان جلسوں کے ذریعہ ہندوؤں کی وہ کثرت جو اپنے اندر شرافت رکھتی ہے اور صلح کے لئے تیار ہے اس کو جرأت ولا ئیں گئے اور اس کے حوصلے بڑھائیں گے تاکہ ایسے لوگوں کے سامنے آنے سے مذہب اور ملک پر اثر پڑے۔فتنہ انگیز لوگ دب جائیں اور ملک میں امن قائم ہو سکے۔اسی طرح عیسائیوں اور یہودیوں کی کثیر تعداد جو شریف اور امن پسند ہے مگر دوسروں سے دبی ہوئی ہے اس کو بلند کریں گے تاکہ شریروں کی آواز دب جائے اور شریفوں کی کثیر تعداد کھڑی ہو جائے۔پس ان جلسوں کے ذریعہ ہمارا ان لوگوں کو جو فتنہ انگیز ہیں چیلنج ہو گا۔ہم انہیں بتا ئیں گے