خطبات محمود (جلد 11) — Page 289
خطبات محمود ۲۸۹ سال ۱۹۲۸ء قد چھوٹا بھی کر دیں۔پس اس مثال سے کوئی یہ نہ سمجھے برے افعال بھی اسی طرح ہوتے ہیں۔اعمال بد کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ٹھوکریں کھانا اور ٹھوکریں کھانے کے لئے مدد کی ضرورت نہیں ہوا کرتی ضرورت بلند ہونے کے لئے ہوتی ہے۔پس تو کل کا یہ مقام ہے کہ تدابیر کچھ نہیں کر سکتیں جو کچھ کرتا ہے خدا ہی کرتا ہے۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ یہ باتیں جو اس خطبہ میں بیان کی گئی ہیں یہ اتحاد جماعت کے ساتھ کس طرح تعلق رکھتی ہیں۔جس قدر اعتراض اور جھگڑے کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ ملنے اور ایک جگہ جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔اگر ایک آدمی الگ کو ٹھڑی میں بیٹھا رہے تو اس نے کس سے لڑتا ہے۔ایک دوسرے سے ملنے پر عیب چینی کی جاتی ہے لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور جس طرح عیب گیری اور ظلم و فساد ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح شرک بھی ملنے سے پیدا ہوتا ہے۔دو سروں پر اتکال انسان اسی وقت کر سکتا ہے جبکہ دوسرے اس کے سامنے موجود ہوں اگر کوئی پاس ہی نہ ہو تو اتکال کہاں سے پیدا ہو گا۔تو ہمیشہ ملاقات کے نتیجہ میں انسان میں شرک بھی پیدا ہوتا ہے اور نَستَعِینہ میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔پھر عیب جوئی کے بعد انسان خود گناہوں میں مبتلاء ہو جاتا ہے اور گناہ بھی اشتراک اور اجتماع میں ہی ہوتا ہے۔گناہ کیا ہے؟ یہی کہ کسی کا حق لینا اور کسی کا حق نہ دینا اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب دوسرے لوگوں کے ساتھ انسان ملے ان کے اجتماع میں رہے۔پھر گناہ کے نتیجہ میں انسان کا تعلق خدا تعالٰی سے ٹوٹتا ہے۔جتنا کوئی گناہوں میں مبتلاء ہوتا جاتا ہے اتنا ہی خدا سے دور ہوتا جاتا ہے ایک وقت تو انسان بندوں کی عیب چینی کرتا ہے مگر بعض دفعہ بندوں کو ہی خدا سمجھ کر ان سے ہی مدد مانگنے لگتا ہے اس کا سہارا خدا تعالیٰ پر نہیں رہتا۔ان تمام باتوں سے بچنے کے لئے وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ مِیں اشارہ ہے۔پھر انسان کے نفس کے اندر ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ گناہوں کا ارتکاب کرنے لگ جاتا ہے۔پہلے جو کچھ بیان کیا یہ تو افعال ہیں ان کے بعد بدی کی طرف میلان پیدا ہو جاتا ہے۔گناہ آپ ہی آپ سرزد ہوتے چلے جاتے ہیں یہ شرور نفس کہلاتا ہے۔اللہ تعالٰی نے انسان کے نفس کو پاک بنایا ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالٰی نے متعدد بار بیان فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے نفس کو پاک بنایا۔پس چونکہ انسان کا نفس بالکل پاک ہوتا ہے اس لئے شروع میں بدی اس میں باہر