خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 220

خطبات محمود ۲۲۰ سال 1927ء کے سالانہ جلسہ کی تقریر سے ہے جس میں حضرت عثمان کے زمانہ کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔اور بتایا گیا ہے کہ اب بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔اس وقت سننے والوں نے سمجھا ہو گا۔عام نصیحت کی جارہی ہے۔مگر وہ واقعات تھے جو میری زبان پر جاری کئے گئے۔پھر آج سے نو سال قبل اسی نمبر پر اسی مسجد میں اسی دن اور اسی وقت خطبہ میں میں نے اپنی ایک رویا بیان کی تھی کہ مجھے منافق بتائے گئے ہیں جن کا اس قسم کا نقشہ ہے۔میرا خیال ہے یہ سترہ یا اٹھار عیسوی کا خطبہ ہے اس خواب میں موجودہ فتنہ کا صحیح نقشہ بیان کر دیا گیا تھا۔اور اس کی بنیاد بھی بنادی گئی تھی مگر میں دیکھتا ہوں۔ہماری جماعت نے نفاق کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور بہت لوگ اس لئے دھوکا کھا جاتے ہیں کہ انہوں نے منافقوں کے کام کو نہیں سمجھا۔حالانکہ منافقوں کا ذکر اتنی تفصیل۔قرآن کریم میں کیا گیا ہے کہ بغیر کسی نوٹ کے اگر اسے ایک جگہ لکھا جائے تو آج کل کے منافق جو حالات بیان کرتے ہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعریف کی گئی ہے وہی طریق وہی دلیل او روہی اعتراض آج ہوں گے جن کا ذکر کیا گیا اور جب گرفت ہو گی تو وہی جواب لفظا لفظ ان کا ہو گا جو پہلے دیا کرتے تھے۔وہی عذر ہوں گے۔وہی بہانے ہوں گے۔اتنی مشابہت کو دیکھ کر کہنا کہ ابھی تک ہمیں منافقوں کے متعلق علم نہیں دیا گیا کیسی نادانی ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ ایسے اشخاص کے پاس جا کر بیٹھتے ہیں۔ان کی گھنٹوں صحبت رہتی ہے اور ان کو معلوم ہے کہ وہ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں لیکن جب پوچھا جاتا ہے کہ فلاں شخص تمہارے پاس آکر اس قدر کیوں بیٹھتا ہے تو کہہ دیتے ہیں یونہی بیٹھتا ہے۔کوئی منافقت اور فتنہ کی بات تو نہیں کرتا۔مگر کون عقل مند خیال کر سکتا ہے کہ وہ شخص اس کی منافقت میں شامل نہیں۔جب وہ ادھر ادھر ایسے لوگوں کو تلاش کرتا رہتا ہے۔تاکہ ان سے فتنہ انگیزی کی باتیں کرے تو کس طرح ممکن ہے کہ تمہارے پاس پانچ پانچ چھ چھ گھنٹے بیٹھا باتیں کرتا رہے مگر کوئی منافقت کی بات نہیں کرتا۔یہ ایساد عوئی ہے جس کے تسلیم کرنے کے لئے بہت بڑی بے وقوفی کی ضرورت ہے۔بھلا ایک ایسا شخص جس کی طبیعت میں نیش زنی ہے وہ اپنی دوستی کے لئے کسی مخلص کو کیونکر چن سکتا ہے۔ہر شخص دوستی کے لئے اپنی طبیعت کے مطابق انسان چتا ہے یہ خدا تعالٰی کے قانون اور فطرت کا تقاضا ایسا ہے جو دنیا کے ہر گوشہ میں جاری ہے حتی کہ جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے حضرت محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں میں کہیں جارہا تھا میں نے دیکھا ایک کوا اور ایک کبوتر اکٹھے بیٹھے ہیں انہیں دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی اور میں ان کے اکٹھے بیٹھنے کی وجہ معلوم کرنے کے لئے ٹھر گیا۔تھوڑی دیر کے بعد جب وہ چلے تو معلوم ہوا کہ دونوں