خطبات محمود (جلد 11) — Page 169
خطبات محمود 149 سال 1927ء لئے کہاں موقع ہے جس طرح مسلمانوں کے بزرگوں کے خلاف دل آزار تحریر میں شائع کرنے کا رستہ کھلا ہے اسی طرح دوسرے مذاہب کے بزرگوں کے خلاف بھی تو رستہ کھلا ہے۔پھر خود ہی اس کی توجیہہ کی ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کا اس کے متعلق شور مچانا اور گورنمنٹ کو قانون کے اس نقص کی طرف توجہ دلانا بتاتا ہے کہ جب دوسرے مذاہب والوں کو اپنے بزرگوں کے خلاف کسی قسم کی نکتہ چینی کا خوف نہیں تو مسلمانوں کے نبی کی زندگی میں ایسی باتیں موجود ہیں۔جن پر نکتہ چینی ہونے سے مسلمان ڈرتے ہیں۔گویا ان کے نزدیک چونکہ مسلمان سب سے زیادہ راجپال کے فیصلہ کے خلاف شور مچارہے ہیں۔اور اس قسم کی تحریروں کو روکنے کے لئے قانون بنانے کے متعلق سب سے زیادہ زور دے رہے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ ان کے دلوں میں یقین ہے کہ ان کے نبی کی زندگی ایسی خراب ہے کہ لوگ اس پر اعتراض کر سکتے ہیں اور کریں گے مگر وہ قانون میں کوئی ایسی دفعہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا منہ بند نہ کر سکیں گے۔اس وجہ سے مسلمان شور مچارہے ہیں تاکہ قانون کے ذریعہ ایسے لوگوں کی زبان بند کرا دیں۔میں ایسے لوگوں سے اس حد تک تو متفق ہوں کہ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف مسلمانوں نے زیادہ زور سے آواز اٹھائی ہے۔مگر جو نتیجہ اس سے نکالا گیا ہے وہ سرتا سر غلط ہے۔اگر مسلمانوں نے اس فیصلہ کے خلاف جوش کا اظہار کیا اور غم و غصہ دکھایا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ متعدد ہندو مصنف ایسے پائے گئے جو شرافت اور انسانیت کے مطالبات سے قطع نظر کر کے رسول کریم ﷺ پر ایسے گندے اور کمینے حملے کر رہے ہیں جن کو کوئی شریف انسان برداشت نہیں کر سکتا۔اور یہ قدرتی بات ہے کہ جس مذہب کے بانی کے خلاف ایسے گندے اعتراض کئے جائینگے اس کے پیروؤں میں جوش اور غصہ پیدا ہو گا۔ورنہ جن کے مذہب کے بانیوں کو گالیاں نہیں دی جاتیں ان میں جوش اور غصہ کیوں پیدا ہو۔پس یہ کہنا کہ مسلمانوں میں کیوں جوش پیدا ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رنگیلا رسول در تمان۔اور وچتر جیون کتابیں مسلمانوں ہی کے خلاف لکھی گئی ہیں۔ہندوؤں یا عیسائیوں یا آریوں کے خلاف نہیں لکھی گئیں اگر اسی قسم کی کتابیں ہندوؤں اور آریوں کے خلاف لکھی جاتیں اور اسی طرح پے در پے لکھی جاتیں تو ان میں ایسا جوش پیدا ہو تا جس کا مٹانا مشکل ہو جاتا۔مگر اب زخم مسلمانوں کو لگا ہے سینے مسلمانوں کے فگار ہیں۔ہندوؤں کو کیا ہوا ہے کہ وہ شور مچائیں۔پس اس وقت مسلمان جو شور مچارہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ مسلمان اس بات سے ڈرتے