خطبات محمود (جلد 11) — Page 168
خطبات محمود ۱۶۸ سال 1927ء کتاب ”رنگیلا رسول " کا جواب (فرموده یکم جولائی ۱۹۲۷ء ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : پچھلے دنوں رسول کریم ای کے متعلق جو کسی گندہ دہن انسان نے ایک کتاب ”رنگیلا رسول" کے نام سے لکھی۔اس پر جب مسلمانوں کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ ایسی دل آزار تحریروں کو قانونا بند کرنا چاہئے۔کیونکہ وہ مختلف اقوام ہند کے درمیان منافرت اور تباغض پیدا کرتی ہیں۔تو اس پر بعض ہندو اخبارات نے اور خصوصاً "ملاپ " اور " پر تاپ " نے یہ لکھا ہے کہ مسلمانوں کو ایسی تحریروں کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلانے کی کیا ضرورت ہے اور مسلمان اس بات پر کیوں ناراض ہوتے ہیں کہ قانون میں اس قسم کی تحریروں کے لکھنے والوں کے لئے کوئی دفعہ نہیں ہے جس کے ذریعہ ان کو سزا دی جاسکے۔کیونکہ قانون میں اگر نقص ہے تو اس کا اثر ہندوؤں۔سکھوں۔عیسائیوں۔یہودیوں سناتیوں سب پر پڑے گا۔چونکہ کسی ایسی دفعہ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے جس کے ذریعہ ایسی تحریروں کو روکا جاسکے۔مختلف مذاہب کے بانیوں پر حملے کئے جاسکتے ہیں۔اور ان کے اعزاز اور احترام کے خلاف جائز و نا جائز نکتہ چینی کی جا سکتی ہے۔اس لئے مسلمانوں ہی کے لئے خطرہ نہیں کہ ان کے بزرگوں کے خلاف سخت تحریر میں شائع ہوتی ہیں بلکہ ایسا ہی خطرہ ہندوؤں کے لئے بھی ہے۔ایسا ہی خطرہ سکھوں کے لئے بھی ہے۔ایسا ہی خطرہ عیسائیوں کے لئے بھی ہے۔ایسا ہی خطرہ یہودیوں کے لئے بھی ہے۔اگر یہ لوگ اس قسم کی دفعہ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے شور نہیں بچار ہے۔کوئی شکوہ نہیں کر رہے۔تو مسلمانوں کے شور مچانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔اگر کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلہ کے اثر سے سنائیوں۔آریوں سکھوں۔عیسائیوں۔اور یہودیوں وغیرہ کے لئے اعتراض کا کوئی موقعہ نہیں تو پھر مسلمانوں کے