خطبات محمود (جلد 11) — Page 118
خطبات محمود HA سال 1927ء طرح بائیکاٹ کریں اور ان سے کسی قسم کا لین دین نہ کریں۔میرے مضامین میں مضمون نگار صاحب کو یہ تین باتیں قابل اعتراض نظر آئی ہیں۔اور ان کا خیال ہے کہ آج کل کے زمانہ میں جو عام شورش کی رو چل رہی ہے میں بھی اس میں بہہ گیا ہوں۔وہ مجھے نصیحت کرتے ہیں کہ مجھے اپنی جماعت کے لوگوں کو یہ سمجھانا چاہئے کہ امن سے رہیں اور ہندوؤں کے ساتھ امن سے زندگی بسر کرنی چاہئے۔چونکہ مضمون نگار صاحب نے اپنے خیالات سے پبلک طور پر آگاہ نہیں کیا۔اور مجھے کبھی ان کے سننے کا اتفاق نہیں ہوا۔اس وجہ سے میں ان سے واقف نہیں ہوں۔اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ذاتی خیالات موجودہ حالات اور واقعات کے متعلق کیا ہیں۔لیکن عام حالات اور خیالات جو پھیل رہے ہیں۔اور جو لوگوں پر غالب آ رہے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے یہی خیال کیا جا سکتا ہے کہ مضمون نگار کے خیالات بھی عام ہندوؤں کے خیالات کے مطابق ہی ہوں گے۔اس لئے انہی کو مد نظر رکھتے ہوئے میں جواب دیتا ہوں۔پہلی چیز جو میرے مضامین میں مضمون نگار صاحب کو قابل اعتراض نظر آئی ہے۔وہ یہ ہے کہ میں نے مسلمانوں سے کہا ہے اپنے ہاتھ میں سونٹار کھیں۔مضمون نگار لکھتا ہے یہ کہہ کر میں نے امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی ہے۔لیکن مضمون نگار نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ہتھیار رکھنے سے امن میں خلل نہیں پڑا کر تا بلکہ ہتھیار کے ناجائز استعمال سے خلل پڑتا ہے۔اگر صرف ہتھیار رکھنے سے امن میں خلل پڑتا ہے اور بدامنی پیدا ہوتی ہو تو دنیا کی گورنمٹیں سب سے زیادہ دنیا میں بدامنی اور بربادی پیدا کرنے والی ہونی چاہئیں۔کیونکہ ہر گورنمنٹ تو ہیں ، بندوقیں، تلواریں، مشین گنیں ، ہم ، ہوائی جہاز جنگی جہاز اور دوسرے لڑائی کے سامان اپنے ہاں رکھتی ہے۔اگر ان چیزوں کے رکھنے سے خلل امن واقعہ ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی ایک بھی گورنمنٹ ایسی نہیں ہو سکتی جو امن کے برباد کرنے والی نہ ہو۔اور صرف وہی گورنمنٹ امن قائم رکھنے والی قرار پائے گی جو اپنی فوجیں موقوف کر دے۔تلواریں اور بندوقیں تو ڑ دے۔تو ہیں اور جنگی جہاز پگھلا دے اور بالکل نہتی ہو کر بیٹھ جائے۔لیکن ایسی کوئی حکومت چند دن سے زیادہ نہ چلے گی۔آج تک تو کبھی کوئی حکومت ایسی ہوئی نہیں۔اور اگر اب ہوئی تو ہمسایہ حکومت اسے ایک دن کے لئے بھی زندہ نہ رہنے دے گی۔پس اگر تمام دنیا کی گور نمنٹیں حتی کہ ویدک زمانہ کی حکومتیں بھی جن کی تعریف میں ہندو زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے نہیں تھکتے ہتھیار رکھتی تھیں۔اور اگر ویدوں میں اس