خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 94

خطبات محمود ۹۴ سال 1927ء کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ ہندو اور سکھ مل کر بھی مسلمانوں سے کم رہتے ہیں۔اور اس طرح سکھ حکمران نہیں بن سکتے۔ہاں اگر مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں تو حاکم ہو سکتے ہیں۔پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی ۵۵ فیصدی ہے۔اور سکھوں کی ۱۳فی صد۔اگر دونوں مل جائیں تو ان کی ۶۸ فی صدی ہو سکتی ہے۔اس طرح دونوں مل کر پنجاب پر آزادی سے حکومت کر سکتے ہیں۔لیکن اگر سو فی صدی سکھ۔۲۹ فی صدی ہندوؤں سے ملیں تو ۴۲ فی صدی بنتے ہیں۔اور ۴۲ فی صدی ۵۵ فی صدی مسلمانوں پر غالب نہیں آسکتے کجا یہ کہ مسلمانوں اور سکھوں کی مجموعی تعداد ۶۸ فیصدی پر غالب آ سکیں۔پس سیاسی طور پر سکھوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ مسلمانوں سے مل جائیں۔اور مسلمانوں کا بھی اسی میں فائدہ ہے کہ سکھ ان کے ساتھ مل جائیں۔اب گورنمنٹ سکھوں اور ہندوؤں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں قریباً نصف حقوق نمائندگی دیتی ہے۔لیکن اگر سکھ مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں تو بہت زیادہ دینے پر مجبور ہوگی۔پس سیاسی طور پر بھی مسلمانوں اور سکھوں کا اس میں فائدہ تھا۔کہ آپس میں مل جاتے۔لیکن جن لوگوں کے نزدیک مذہب بھی کچھ حقیقت رکھتا ہے۔وہ اس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ سکھ تو حید کو ماننے والے ہیں اور ہندو مشرک ہیں۔آریہ کہتے ہیں کہ وہ بت پرست نہیں ہیں مگر مادہ کو وہ بھی ازلی ابدی قرار دے کر خدا کے برابر کر دیتے ہیں۔اس طرح وہ بھی مشرک ہی ہیں۔لیکن سکھ سب چیزوں کا خالق خدا کو مانتے ہیں۔اور وہ موحد ہیں۔پس مذہبی طور پر جتنا اتحاد سکھوں سے ہو سکتا ہے اتنا ہندوؤں سے نہیں ہو سکتا۔اور مجھے تو جب کوئی سکھ ملا ہے۔اور میں نے اس طرف اسے توجہ دلائی ہے تو وہ مان گیا ہے کہ فی الواقع مسلمانوں کے ساتھ سکھوں کے تعلقات بہت استوار ہو سکتے ہیں۔اگر مسلمان ذرا بھی حکمت سے کام لیتے تو سکھ ہندوؤں سے نہیں مل سکتے تھے۔اور مسلمانوں سے ان کا اتحاد ہو سکتا تھا۔اگر انہیں یہ بتایا جاتا کہ تمہارے بزرگوں سے مسلمانوں نے کیسے کیسے اچھے سلوک کئے۔اور تمہارے بزرگ انہیں کیسا اچھا سمجھتے تھے۔تو درمیانی واقعات کو وہ یقیناً بھلا دیتے۔اگر کوئی سکھوں کو یہ سمجھاتا اور ان کے ذہن نشین کرا دیتا کہ سکھ دھرم کے بانی سے مسلمانوں نے کیا سلوک کئے۔اور انہیں بھی مسلمانوں سے اس قدر تعلق تھا کہ مسلمان بزرگوں کے مقامات پر چلہ کشی کرتے۔پھر بعد میں بھی سکھ بزرگوں کو مسلمان بزرگوں سے عقیدت رہی۔چنانچہ امرت سر کے مشہور دربار صاحب کی بنیاد ایک مسلمان بزرگ میاں میر صاحب کے ہاتھوں رکھوائی گئی۔تو بزرگوں کی محبت اور عقیدت کی وجہ سے وہ واقعات بھول جاتے جو سکھوں اور مسلمانوں میں شکریکی