خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 93

خطبات محمود ۹۳ سال 1927ء دیں۔اور سکھوں اور ہندوؤں کو مسلمان بنا ئیں۔اگر مسلمان ایسا کریں گے تو یہی خون جو ان کا بہایا گیا ہے ان کے لئے کھاد کا کام دے گا۔لیکن اگر انہوں نے خون کے بدلے خون بہا لیا۔تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کے جوش دب جائیں گے اور ہندوؤں کے مظالم سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔دوسری چیز جس کی طرف مسلمانوں کو اور خصوصاً اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ ہم سے پہلے بھی غلطی ہوئی ہے اور اب بھی اسی کا ارتکاب دوبارہ کیا جارہا ہے۔اور وہ یہ کہ سکھوں مسلمانوں کے تعلقات اعلیٰ درجہ کے تھے۔سکھ مسلمان بزرگوں کا بڑا ادب اور تعظیم کرتے تھے۔اپنے عبادت خانوں کی بنیاد ان سے رکھواتے۔مسلمانوں کے مقدس مقامات پر جا کر چلہ کشی کرتے۔اور ہر طرح مسلمانوں اور اسلام سے اخلاص رکھتے۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے بعض سیاسی امور میں غلطی کر کے سکھوں کو اپنا دشمن بنا لیا۔اور ہندوؤں نے ان کو جذب کرنا شروع کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سکھ جو اسلام کے دروازہ پر تھے ہم سے دور ہو کر دشمن کا ہتھیار بن گئے۔یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی جو مسلمانوں سے ہوئی۔اور جس کا سینکڑوں سال سے ہم خمیازہ اٹھا رہے ہیں۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی اصلاح فرمائی اور جہاں ایک طرف مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ سکھوں کے سب سے بڑے گورو مسلمان تھے۔مسلمان بزرگوں سے تعلق رکھتے تھے۔مسلمان بزرگوں سے برکت حاصل کرتے تھے۔دوسری طرف سکھوں کو توجہ دلائی کہ ان کے بزرگوں کے تعلقات ہندوؤں کی نسبت مسلمانوں سے زیادہ تھے۔مسلمانوں کو وہ اپنا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھتے تھے۔ان کے فیوض سے بہرہ اندوز ہوتے تھے۔اس لئے تمہارے تعلقات بھی ہندوؤں کی نسبت مسلمانوں سے زیادہ ہونے چاہئیں۔یہ ایک نہایت صحیح رستہ تھا۔جسے اگر مسلمان پکڑ لیتے اور سیاسی غلطیاں نہ کرتے۔تو اس وقت سکھ مسلمانوں کے ساتھ ملے ہوئے ہوتے۔مگر مسلمانوں نے اس مسئلہ کی نزاکت کو نہ سمجھا۔اور اس کے متعلق سوائے جماعت احمدیہ کے پوری بے توجہی اور لا پرواہی سے کام لیا۔اگر مسلمانوں نے اس مسئلہ کی مذہبی اہمیت نہ سمجھی تھی۔تو سیاسی اہمیت ہی سمجھتے۔اور خیال کرتے۔پنجاب میں مسلمانوں کے ساتھ اگر سکھ بھی مل جائیں تو مسلمانوں کی طاقت کس قدر زبردست ہو سکتی ہے۔اسی طرح سکھوں کو مسلمانوں کے ساتھ ملنے سے کس قدر قوت مل جاتی ہے۔دونوں کو اتنی طاقت حاصل ہو سکتی ہے۔جو سیاسی طور پر پنجاب کی حکومت کو درست رکھنے کے لئے کافی بلکہ کافی سے بھی زیادہ ہے۔لیکن اگر سکھ ہندوؤں سے ملیں۔تو انہیں