خطبات محمود (جلد 11) — Page 82
خطبات محمود ۸۲ سال 1927ء ال مقام محمود پر پہنچنے کے لئے ہوا کرتے ہیں۔پہلا یہ کہ دشمن اس کے نیست و نابود ہو جائیں۔اور یوں اس کی مذمت کرنے والے ہی نہ رہیں۔اور جب مذمت کرنے والے ہی نہ ہوں گے تو صرف تعریف کرنے والے رہ جائیں گے۔اس طرح اسے مقام محمود حاصل ہو جائے گا۔دوسرا طریق یہ ہے کہ دشمن کے لئے گرفت کا کوئی موقع نہ رہے یعنی اس کی زندگی اس قسم کی ہو کہ دشمن اس پر کوئی اعتراض نہ کر سکے۔یہ صورت اگر ہو تو پھر بھی اس کی تعریف ہی ہوتی ہے۔یہ دو طریق ہیں جن سے مقام محمود پر کوئی شخص کھڑا ہو سکتا ہے۔ان دو کے سوا تیسرا اور کوئی طریق نہیں۔جس سے کوئی شخص مقام محمود پر کھڑا ہو سکے اگر کسی کے دشمن نیست و نابود نہیں ہو گئے۔اگر اس کے مخالف است کے ہم خیال نہیں ہو گئے تب بھی اس کی تعریف نہ ہوگی۔اور وہ مقام محمود پر نہ ہو گا۔اور اگر اس کا کام نا مکمل ہے تب بھی اس پر اعتراض ہوتے رہیں گے۔اور لوگ گرفت کرتے رہیں گے۔پس یہ دو باتیں ہیں جن سے کسی شخص کی حمد میں فرق آتا ہے کہ یا تو اس کے کام میں نقص ہو اور وہ غیر مکمل ہو یا اس کے دشمن قائم رہیں۔اب ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھ کر دیکھو کہ کیا رسول کریم دنیا کے لحاظ سے مقام محمود پر پہنچ گئے۔اور دعوت نامہ اور صلوٰۃ قائمہ جو اس مقام محمود کے پانے کے دو ذریعے ہیں۔کیا مسلمانوں نے ان دونوں پر پورا پورا عمل کیا۔اگر نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ رسول کریم کو وہ مقام محمود حاصل ہونے میں جو ہمارے اعمال سے وابستہ ہے۔مسلمانوں کی مستیاں اور کوتاہیاں روک بنی ہوئی ہیں۔ایک شخص جب یہ دعا پڑھتا ہے تو یہ کہتا ہے اے خدا تو نے ایسی زندا کی ہے جو تامہ ہے۔جو لوگوں کو تیری طرف بلاتی ہے یہ تبلیغ ہے۔دوسری بات صلوۃ قائمہ ہے جس سے اصلاح نفس مراد ہے۔قائم اسے کہتے ہیں جس کا نفع قائم رہے۔اور اس کی ضرورت مندی نہ ہو۔کہتے ہیں بازار قائم ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے خوب سودا بکتا ہے۔اسی طرح صلوٰۃ قائم ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ اس کے فائدے قائم رہتے ہیں۔ان دونوں باتوں کو دیکھ کر ہم دعا کرتے ہیں۔اے خدا جس کے وجود کے ذریعہ ہمیں یہ فائدے نصیب ہوئے اسے زیادہ قرب عطا کر۔اور اس کو وہ مقام محمود دے جو ہمارے اعمال کے ذریعہ ملنا ہے۔غرض اس دعا میں ایک طرف تو تبلیغ کی طرف توجہ دلائی ہے اور دوسری طرف اندرونی اصلاح کی طرف متوجہ کیا ہے اگر مسلمان اس کو سمجھ لیں۔اور تبلیغ کے کام میں لگ جائیں تو دنیا مسلمان ہو سکتی ہے۔اس طرح جب رسول کریم ان کے حکم کو برا کہنے والا کوئی نہ رہے گا تو آپ اس مقام محمود پر کھڑے ہو جائیں گے جس کے لئے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی گئی ہے یعنی