خطبات محمود (جلد 11) — Page 459
لطبات محمود ۴۵۹ سال ۶۱۹۲۸ آتے وہ بار بار اٹھ کر باہر چلے جاتے وہاں اس وقت ایک شخص کا سوال نہ تھا بلکہ قوم کا سوال تھا۔اور قومی شیرازہ کے بکھرنے کے متعلق گفتگو تھی۔اور اسے متحد کرنے کی تجویزیں تھیں لیکن باوجودیکہ لیڈر اپنے گھروں کو چھوڑ کر وہاں پہنچ چکے تھے مگر پھر بھی وہ لیڈر جو قوم کے غم میں گر از قرار دیئے جاتے تھے چند گھنٹہ وہاں نہیں بیٹھ سکتے تھے۔گویا وہ تکلیف ان کے لئے مالا یطاق تھی۔بعض اوقات ایسے معاملات پیش ہوتے جن کا حل نہایت ضروری ہو تا مگر وہ یہ کہنا شروع کر دیتے کہ ہماری جائے قیام بہت دور ہیں دیر ہو گئی ہے اس لئے اسے کسی اور وقت پر ملتوی کر دیا جائے۔بعض اوقات پانچ پانچ چھ چھ آدمیوں کی کمیٹیاں بنائی جاتیں۔مگر ان میں بھی دو دو گھنٹے انتظار کرنا پڑتا کہ بعض ممبرا بھی نہیں آئے۔لیکن ہماری جماعت کے لوگ کسی دنیوی غرض کے لئے نہیں، ملک کی قسمت کے فیصلہ کے لئے نہیں جس سے عزت کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، حکومت کے حصول کے لئے نہیں جس کا خیال ہی ہر انسان کے دل میں کئی قسم کے سبز باغ دکھاتا ہے بلکہ اس کتاب کے پڑھنے کے لئے جو خود بیان کرتی ہے کہ رسول کریم قیامت کے دن خدا سے کہیں گے۔یرَتِ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان (۳۱) اے میرے رب میری قوم نے اس لطیف اور اعلیٰ درجہ کی کتاب کو بالکل چھوڑ دیا ہاں اس چھوڑی ہوئی کتاب کے سمجھنے کے لئے ہماری جماعت کے لوگ شدید گرمی میں روزانہ کئی کئی گھنٹے بیٹھے اور نوٹ لکھتے رہے۔ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ یہ تکلیف جو آپ لوگوں نے ان دنوں میں اٹھائی میں اس میں اس حد تک تو شامل نہیں ہو سکا جس حد تک آپ لوگوں کو پہنچی کیونکہ میرے گرد اس قدر ہجوم نہ ہوتا تھا جیسا آپ لوگوں کے پاس ہو تا تھا لیکن خدا تعالٰی نے مجھے اس ثواب میں شامل کرنے کا ایک اور ذریعہ پیدا کر دیا۔اور وہ یہ کہ میں پچھلے دنوں بہت بیمار رہا بخار اور اسہال کی شکایت تھی اور میں سمجھتا ہوں اس طرح اللہ تعالٰی نے وہ کمی جو ہجوم میں بیٹھنے کی تکلیف سے رہ گئی تھی شاید میرے حق میں بیماری سے پوری کر دی ہو۔بہر حال ہم سب نے نیک نیت اور نیک ارادہ سے قرآن کریم پڑھا اور پڑھایا۔مگر اب سوال یہ ہے کہ اس تکلیف کا نتیجہ کیا ہوا۔اس میں تو شک ہی نہیں کہ اس قسم کی تکلیف کی نظیر دنیا کی اور کسی قوم میں نہیں ملتی۔ان لوگوں کو میں مستثنیٰ کرتا ہوں جنہوں نے خدا تعالی کے قرب کا ذریعہ ہی یہ سمجھ رکھا ہے کہ الٹے لٹکے رہیں یا الاؤ میں بیٹھے رہیں انہوں نے اپنی زندگی کو ایک خاص وضع میں ڈھال رکھا ہوتا ہے اور وہ چونکہ اس کے عادی ہو جاتے