خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 446

خطبات محمود ۴۴۶ سال ۲۱۹۲۸ متعلق کی گئیں ان کا بہت اچھا اثر سامعین پر ہوا۔گویا لاہور کا جلسہ ایک ہندو کو تو کامیاب نظر آیا مگر ان لوگوں کو کامیابی نہ دکھائی دی جو اپنے آپ کو رسول کریم ﷺ کا اصل درجہ سمجھنے والے قرار دیتے ہیں۔پھر بنگال کے ایک مشہور اخبار "سلطان" (۲۱ / جولائی ۱۹۲۸ء) نے جو پہلے ہمارے خلاف لکھتا رہا لکھا جماعت احمدیہ نے ۱۷ / جون کو رسول کریم ﷺ کی سیرت بیان کرنے کے لئے ہندوستان بھر میں جلسے منعقد کئے ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ تقریباً سب جگہ کامیاب جلسے ہوئے اور یہ تو ایک حقیقت ہے کہ اس نواح میں احمدیوں کو ایسی عظیم الشان کامیابی ہوئی ہے کہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوئی اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ روز بروز طاقتور ہو رہی ہے اور لوگوں کے دلوں میں جگہ حاصل کر رہی ہے ہم خود بھی ان کی طاقت کا اعتراف کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں کی رائیں ہیں جنہوں نے ۱۷ / جون کے جلسے دیکھے اور جنہیں ہماری جماعت سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن ان کے مقابلہ میں غیر مبالعین نے بار بار لکھا کہ جلسے ناکام ہوئے ان کی امیدین پوری نہیں ہو ئیں۔اگر مذہبی طور پر اختلاف ہوتا اور اس وجہ سے لکھتے تو کہتے خاتم النبین کے قائل نہیں مگر انہوں نے تو جلسوں کے بعد ان جلسوں کو ناکام دکھانے کی کوشش کی جس سے ثابت ہے کہ یہ محض ان کا عناد اور دشمنی تھی۔اس بات کے اور بھی ثبوت ہیں مگر اس وقت میں اس بحث کے لئے کھڑا نہیں ہوا اس لئے اسے چھوڑتا ہوں۔انہی دنوں ایک شخص نے جو مبائعین میں سے ہیں جن کی طبیعت جو شیلی ہے اور جب وہ جوش میں آتے ہیں تو بعض دفعہ انہیں خیال نہیں رہتا کہ میرے الفاظ کے لوگ کیا معنے لیں گے۔ان کے اخلاص میں شبہ نہیں وہ کام کرنے والے آدمی ہیں اور اپنے علاقہ میں تعلیم کے لئے کوشش کرتے رہتے ہیں۔احمدیت بھی ان کے دل میں اس قدر جاگزیں ہے کہ وہ اپنے ہر خط میں مجھے لکھتے ہیں دعا کریں میرے بچے پکے اور مخلص احمدی ہوں۔مگر انہوں نے جوش میں ایک خط لکھ دیا جس میں لکھا کہ ۱۷ جون کے جلسوں میں لیکچر دینے والوں کے لئے کتابوں کی جو فہرست شائع کی گئی اس میں فلاں فلاں کتاب کا نام نہیں لکھا گیا یہ تنگ دلی پر مبنی ہے حالانکہ ہو سکتا ہے کہ فہرست لکھنے والے کے ذہن میں وہ کتابیں نہ ہوں۔مگر انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ انسان سے غلطی بھی ہو جاتی ہے۔پھر ہو سکتا ہے تنگ دلی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ دوسرا فریق ناجائز فائدہ نہ اٹھا لے ذکر نہ کیا گیا ہو۔ہماری طرف سے اس وقت تک کئی کتابیں