خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 435

خطبات محمود ۳۵ سال ۱۹۲۸ء نکل جائے گا اور کوئی کہیں۔پس عقل کے ماتحت جو کام کرتے ہیں وہ ایک ہی نتیجہ پر پہنچتے ہیں۔اور جو یونہی چلتے ہیں ان میں سے بھی کوئی پہنچ سکتا ہے مگر زیادہ ضائع ہی ہو جاتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے اس آیت میں دو دعوے کئے۔ایک یہ کہ ادْعُوا إِلَى اللهِ اور دوسرا یہ کہ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِى اس سے بہتر دعوے نہیں ہو سکتے اور نہ کسی نے آپ کے سوائے ہیں۔دعوے یہ ہیں کہ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں، خدا کی محبت لوگوں میں پیدا کرتا ہوں ، پھر عقل سے منواتا ہوں کسی قسم کا جبر نہیں کرتا۔یہ وہ بہترین چیز ہے جو قرآن کریم نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔مگر ہمارے لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔خواہ ایک چیز کتنی عمدہ ہو لیکن اگر ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو ہمارے لئے اس کا اچھا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔کسی کو بخار چڑھا ہو اور اس کی جیب میں کونین بھی ہو مگر وہ خود نہ کھائے اور دوسروں کو بتائے کہ بخار دور کرنے کے لئے بہت مفید چیز ہے تو اس سے اسے کیا فائدہ ہو گا۔اسی طرح ایک شخص کنویں کے پاس پیاسا بیٹھا ہو مگر پانی نہ پئے تو اس کی پیاس کس طرح بجھ سکی گی۔پس جب تک ہم قرآن کریم پر عمل نہ کریں وہ باتیں جو اس میں بیان کی گئی ہیں ان سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس آیت میں قرآن نے دو باتیں بیان کی ہیں۔ایک یہ کہ اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔اب ہمیں دیکھنا یہ چاہئے کہ کیا ہماری زندگیاں ایسی ہیں کہ ہم لوگوں کو خدا تعالی کی طرف بلاتے ہیں یا یہ کہ دوسروں کو بلاتا تو الگ رہا خود ہی خدا کی طرف جاتے ہیں۔اگر غور کریں تو مسلمانوں میں سے بہت کم ہوں گے جو اس طرف توجہ کرتے ہوں۔ان کے مقابلہ میں عیسائی اور دوسرے مذاہب والوں میں اپنے اپنے مذہب سے بہت زیادہ تعلق پایا جاتا ہے اور وہ دوسروں کو بھی اپنے مذاہب کی طرف لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اس وقت انگلستان میں دہریت کا بہت زور ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ دہریت نے عیسائیت کو بہت بگاڑ دیا ہے مگر باوجود اس کے ان لوگوں کو حضرت عیسی سے جو وابستگی ہے اس میں فرق نہیں آیا۔وہ لوگ اس بات کو مذہب سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ سے محبت اور اخلاص رکھیں اور اسے چھوڑنے کے لئے وہ کسی صورت میں بھی تیار نہیں خواہ وہ عیسائی رہیں یا نہ رہیں دہریہ بن جائیں یا کچھ اور حضرت عیسی سے انھیں جو تعلق ہے اس میں کمی آنے نہیں دیتے۔اس میں وہ ایسے پختہ ہیں کہ عیسائیت کی تبلیغ کے مرکز آکسفورڈ اور کیمبرج سمجھے جاتے ہیں جہاں یونیورسٹیاں ہیں اور جہاں نوجوان تعلیم